حکمت
حکمت 182
حکمت (182) : حکیمانہ بات سے خاموشی اختیار کرنے میں بھلائی نہیں جس طرح جہالت کی بات میں کوئی اچھائی نہیں۔ (182- خاموشی و گویائی کا محل)
حکیمانہ بات سے خاموشی اختیار کرنے میں بھلائی نہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 183
حکمت (183) : جب دو مختلف دعوتیں ہوں گی، تو ان میں سے ایک ضرور گمراہی کی دعوت ہو گی۔ (183- دو مختلف دعوتیں)
جب دو مختلف دعوتیں ہوں گی، تو ان میں سے ایک ضرور گمراہی کی دعوت ہو گی۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 184
حکمت (184) : جب سے مجھے حق دکھایا گیا ہے میں نے اس میں کبھی شک نہیں کیا۔ (184- یقین)
جب سے مجھے حق دکھایا گیا ہے میں نے اس میں کبھی شک نہیں کیا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 185
حکمت (185) : نہ میں نے جھوٹ کہا ہے نہ مجھے جھوٹی خبر دی گئی ہے نہ میں خود گمراہ ہوا، نہ مجھے گمراہ کیا گیا۔ (185- صدق بیانی)
نہ میں نے جھوٹ کہا ہے نہ مجھے جھوٹی خبر دی گئی ہے نہ میں خود گمراہ ہوا، نہ مجھے…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 186
حکمت (186) : ظلم میں پہل کرنے والا کل (مذامت سے) اپنا ہاتھ اپنے دانتوں سے کاٹتا ہو گا۔ (186- ظلم کا انجام)
ظلم میں پہل کرنے والا کل اپنے ہاتھ کو اپنے دانتوں سے کاٹے گا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 187
حکمت (187) : چل چلاؤ قریب ہے۔ (187- چل چلاؤ کا ہنگام)
چل چلاؤ قریب ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 188
حکمت (188) : جو حق سے منہ موڑ تا ہے، تباہ ہو جاتا ہے۔ (188- حق سے رو گردانی)
جو حق سے منہ موڑ تا ہے، تباہ ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 189
حکمت (189) : جسے صبر رہائی نہیں دلاتا، اسے بے تابی و بے قرار ی ہلاک کر دیتی ہے۔ (189- صبر)
جسے صبر رہائی نہیں دلاتا، اسے بے تابی و بے قرار ی ہلاک کر دیتی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 190
حکمت (190) : العجب کیا خلافت کا معیار بس صحابیت اور قرابت ہی ہے۔ (190- معیارِ خلافت)
العجب کیا خلافت کا معیار بس صحابیت اور قرابت ہی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 191
حکمت (191) : دنیا میں انسان موت کی تیر اندازی کا ہدف اور مصیبت و ابتلاء کی غارت گری کی جولانگاہ ہے جہاں ہر گھونٹ کے ساتھ اچھو اور ہر لقمہ میں گلو گیر پھندا ہے اور جہاں بندہ ایک نعمت اس وقت تک نہیں پاتا جب تک دوسری نعمت جدا نہ ہو جائے اور اس کی عمر کا ایک دن آتا نہیں جب تک کہ ایک دن اس کی عمر کا کم نہ ہو جائے ہم موت کے مددگار ہیں اور ہماری جانیں ہلاکت کی زد پر ہیں تو اس صورت میں ہم کہاں سے بقا کی امید کر سکتے ہیں جب کہ شب و روز کسی عمارت کو بلند نہیں کرتے مگر یہ کہ حملہ آور ہو کر جو بنایا ہے اسے گراتے اور جو یکجا کیا ہے اسے بکھیر تے ہوتے ہیں۔ (191- دنیا کی حالت)
دنیا میں انسان موت کی تیر اندازی کا ہدف اور مصیبت و ابتلاء کی غارت گری کی جولانگاہ ہے۔
مزید پڑھیے
