حکمت
حکمت 192
حکمت (192) : اے فرزند آدم علیہ السّلام! تو نے اپنی غذا سے جو زیادہ کمایا ہے اس میں دوسرے کا خزانچی ہے۔ (192- دوسروں کا حق)
اے فرزند آدم علیہ السّلام! تو نے اپنی غذا سے جو زیادہ کمایا ہے اس میں دوسرے کا خزانچی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 193
حکمت (193) : دلوں کے لیے رغبت و میلان، آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا ہوتا ہے۔ لہٰذا ان سے اس وقت کام لو جب ان میں خواہش و میلان ہو، کیونکہ دل کو مجبور کر کے کسی کام پر لگایا جائے تو اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ (193- خوش دلی و بد دلی)
دلوں کے لیے رغبت و میلان، آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 194
حکمت (194) : جب غصہ مجھے آئے تو کب اپنے غصہ کو اتاروں کیا اس وقت کہ جب انتقام نہ لے سکوں اور یہ کہا جائے کہ صبر کیجئے۔ یا اس وقت کہ جب انتقام پر قدرت ہو اور کہا جائے کہ بہتر ہے درگزر کیجئے۔ (194- غصّہ اور انتقام)
جب غصہ مجھے آئے تو کب اپنے غصہ کو اتاروں؟
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 195
حکمت (195) : آپ کا گزر ہوا ایک گھورے کی طر ف سے جس پر غلاظتیں تھیں۔ فرمایا۔ یہ وہ ہے جس کے ساتھ بخل کرنے والوں نے بخل کیا تھا۔ایک اور روایت میں ہے کہ اس موقع پر آپ نے فرمایا :یہ وہ ہے جس پر تم لوگ کل ایک دوسرے پر رشک کرتے تھے۔ (195- گندگی کو دیکھ کر)
آپ کا گزر ہوا ایک گھورے کی طر ف سے جس پر غلاظتیں تھیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 196
حکمت (196) : تمہارا وہ مال اکارت نہیں گیا جو تمہارے لیے عبرت و نصیحت کا باعث بن جائے۔ (196- عبرت کی قدر و قیمت)
تمہارا وہ مال اکارت نہیں گیا جو تمہارے لیے عبرت و نصیحت کا باعث بن جائے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 197
حکمت (197) : یہ دل بھی اسی طرح تھکتے ہیں جس طرح بدن تھکتے ہیں۔ لہٰذا (جب ایسا ہو تو )ان کے لیے لطیف حکیمانہ جملے تلاش کرو (197- دلوں کی خستگی)
یہ دل بھی اسی طرح تھکتے ہیں جس طرح بدن تھکتے ہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 198
حکمت (198) : جب خوار ج کا قول »لاَ حُکمَ اِلاَّ اللّٰہ «(حکم اللہ سے مخصوص ہے )سنا تو فرمایا :یہ جملہ صحیح ہے مگر جو اس سے مراد لیا جاتا ہے وہ غلط ہے۔ (198- قول خوارج)
جب خوار ج کا قول »لاَ حُکمَ اِلاَّ اللّٰہ « سنا تو فرمایا: یہ جملہ صحیح ہے مگر جو اس…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 199
حکمت (199) : بازاری آدمیوں کی بھیڑ بھاڑ کے بارے میں فرمایا: یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ مجتمع ہوں تو چھا جاتے ہیں۔ جب منتشر ہوں تو پہچانے نہیں جاتے۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ نے فرمایا :کہ جب اکٹھا ہوتے ہیں تو باعث ضرر ہوتے ہیں اور جب منتشر ہو جاتے ہیں تو فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں لوگوں نے کہا کہ ہمیں ان کے مجتمع ہونے کا نقصان تو معلوم ہے مگر ان کے منتشر ہونے کا فائدہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ پیشہ ور اپنے اپنے کاروبار کی طرف پلٹ جاتے ہیں تو لوگ ان کے ذریعہ فائدہ اٹھاتے ہیں جیسے معمار اپنی (زیر تعمیر )عمارت کی طرف جولاہا اپنے کاروبار کی جگہ کی طرف اور نانبائی اپنے تنور کی طرف۔ (199- عوام)
بازاری آدمیوں کی بھیڑ بھاڑ کے بارے میں فرمایا: یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ مجتمع ہوں تو چھا جاتے…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 200
حکمت (200) : آپ کے سامنے ایک مجرم لایا گیا جس کے ساتھ تماشائیوں کا ہجوم تھا تو آپ نے فرمایا :ان چہروں پر پھٹکار کہ جو ہر رسوائی کے موقع پر ہی نظر آتے ہیں۔ (200- تماشائی)
آپ کے سامنے ایک مجرم لایا گیا جس کے ساتھ تماشائیوں کا ہجوم تھا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 141
حکمت (141) : متعلقین کی کمی دو قسموں میں سے ایک قسم کی آسودگی ہے۔ (141- راحت و آسودگی)
متعلقین کی کمی دو قسموں میں سے ایک قسم کی آسودگی ہے۔
مزید پڑھیے
