Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

497 اندراجات
حکمت (264) :  دوسروں کے پسماندگان سے بھلائی کرو۔ تاکہ تمہارے پسماند گان پر بھی نظر شفقت پڑے۔ (264- حُسنِ سلوک) حکمت حکمت 264

حکمت (264) : دوسروں کے پسماندگان سے بھلائی کرو۔ تاکہ تمہارے پسماند گان پر بھی نظر شفقت پڑے۔ (264- حُسنِ سلوک)

دوسروں کے پسماندگان سے بھلائی کرو۔ تاکہ تمہارے پسماند گان پر بھی نظر شفقت پڑے۔

مزید پڑھیے
حکمت (265) :  جب حکماء کا کلام صحیح ہو تو وہ دوا ہے اور غلط ہو تو سراسر مرض ہے۔ (265- کلام حکماء) حکمت حکمت 265

حکمت (265) : جب حکماء کا کلام صحیح ہو تو وہ دوا ہے اور غلط ہو تو سراسر مرض ہے۔ (265- کلام حکماء)

جب حکماء کا کلام صحیح ہو تو وہ دوا ہے اور غلط ہو تو سراسر مرض ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (266) :  حضرت سے ایک شخص نے سوال کیا کہ ایمان کی تعریف کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ کل میرے پاس آنا تاکہ میں تمہیں اس موقع پر بتاؤں کہ دوسرے لوگ بھی سن سکیں کہ اگر تم بھول جاؤ تو دوسرے یاد رکھیں۔ اس لیے کلام بھڑکے ہوئے شکار کے مانند ہوتا ہے کہ اگر ایک کی گرفت میں آ جاتا ہے اور دوسرے کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔
(سید رضی کہتے ہیں کہ)حضرت نے اس کے بعد جواب دیا وہ آپ کا یہ ارشا د تھا کہ »الایمان علی اربع شعب «( ایمان کی چار قسمیں ہیں ) (266- ایک سائل کے جواب میں) حکمت حکمت 266

حکمت (266) : حضرت سے ایک شخص نے سوال کیا کہ ایمان کی تعریف کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ کل میرے پاس آنا تاکہ میں تمہیں اس موقع پر بتاؤں کہ دوسرے لوگ بھی سن سکیں کہ اگر تم بھول جاؤ تو دوسرے یاد رکھیں۔ اس لیے کلام بھڑکے ہوئے شکار کے مانند ہوتا ہے کہ اگر ایک کی گرفت میں آ جاتا ہے اور دوسرے کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ (سید رضی کہتے ہیں کہ)حضرت نے اس کے بعد جواب دیا وہ آپ کا یہ ارشا د تھا کہ »الایمان علی اربع شعب «( ایمان کی چار قسمیں ہیں ) (266- ایک سائل کے جواب میں)

حضرت علی نے ایمان کی تعریف بیان کی کہ یہ روحانی ترقی کا ذریعہ ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (267) :  اے فرزند آدم علیہ السّلام ! اس دن کی فکر کا بار جو ابھی آیا نہیں، آج کے اپنے دن پر نہ ڈال کہ جو آ چکا ہے۔ اس لیے کہ اگر ایک دن بھی تیری عمر کا باقی ہو گا، تو اللہ تیرا رزق تجھ تک پہنچائے گا۔ (267- فکر فردا) حکمت حکمت 267

حکمت (267) : اے فرزند آدم علیہ السّلام ! اس دن کی فکر کا بار جو ابھی آیا نہیں، آج کے اپنے دن پر نہ ڈال کہ جو آ چکا ہے۔ اس لیے کہ اگر ایک دن بھی تیری عمر کا باقی ہو گا، تو اللہ تیرا رزق تجھ تک پہنچائے گا۔ (267- فکر فردا)

اے فرزند آدم علیہ السّلام ! اس دن کی فکر کا بار جو ابھی آیا نہیں، آج کے اپنے دن…

مزید پڑھیے
حکمت (268) :  اپنے دوست سے بس ایک حد تک محبت کرو کیونکہ شاید کسی دن وہ تمہارا دشمن ہو جائے اور دشمن کی دشمنی بس ایک حد تک رکھو ہوسکتا ہے کہ کسی دن وہ تمہارا دوست ہو جائے۔ (268- دوستی و دشمنی میں احتیاط) حکمت حکمت 268

حکمت (268) : اپنے دوست سے بس ایک حد تک محبت کرو کیونکہ شاید کسی دن وہ تمہارا دشمن ہو جائے اور دشمن کی دشمنی بس ایک حد تک رکھو ہوسکتا ہے کہ کسی دن وہ تمہارا دوست ہو جائے۔ (268- دوستی و دشمنی میں احتیاط)

اپنے دوست سے بس ایک حد تک محبت کرو کیونکہ شاید کسی دن وہ تمہارا دشمن ہو جائے۔

مزید پڑھیے
حکمت (269) :  دنیا میں کام کرنے والے دو قسم کے ہیں ایک وہ جو دنیا کے لیے سر گرم عمل رہتا ہے اور اسے دنیا نے آخرت سے روک رکھا ہے۔ وہ اپنے پسماندگان کے لیے فقر و فاقہ کا خوف کرتا ہے مگر اپنی تنگدستی سے مطمئن ہے تو وہ دوسروں کے فائدہ ہی میں پوری عمر بسر کر دیتا ہے اور ایک وہ ہے جو دنیا میں رہ کر اس کے لیے عمل کرتا ہے تو اسے تگ و دو کئے بغیر دنیا بھی حاصل ہو جاتی ہے اور اس طرح وہ دونوں حصوں کو سمیٹ لیتا ہے اور دونوں گھروں کا مالک بن جاتا ہے وہ اللہ کے نزدیک با وقار ہوتا ہے اور اللہ سے کوئی حاجت نہیں مانگتا جو اللہ پوری نہ کرے۔ (269- عمل دنیا و عمل آخرت) حکمت حکمت 269

حکمت (269) : دنیا میں کام کرنے والے دو قسم کے ہیں ایک وہ جو دنیا کے لیے سر گرم عمل رہتا ہے اور اسے دنیا نے آخرت سے روک رکھا ہے۔ وہ اپنے پسماندگان کے لیے فقر و فاقہ کا خوف کرتا ہے مگر اپنی تنگدستی سے مطمئن ہے تو وہ دوسروں کے فائدہ ہی میں پوری عمر بسر کر دیتا ہے اور ایک وہ ہے جو دنیا میں رہ کر اس کے لیے عمل کرتا ہے تو اسے تگ و دو کئے بغیر دنیا بھی حاصل ہو جاتی ہے اور اس طرح وہ دونوں حصوں کو سمیٹ لیتا ہے اور دونوں گھروں کا مالک بن جاتا ہے وہ اللہ کے نزدیک با وقار ہوتا ہے اور اللہ سے کوئی حاجت نہیں مانگتا جو اللہ پوری نہ کرے۔ (269- عمل دنیا و عمل آخرت)

دنیا میں کام کرنے والے دو قسم کے ہیں، ایک وہ جو دنیا کے لیے سرگرم عمل رہتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (270) :  بیان کیا گیا ہے کہ عمر ابن خطاب کے سامنے خانہ کعبہ کے زیورات اور ان کی کثرت کا ذکر ہوا تو کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ اگر آپ ان زیورات کو لے لیں اور انہیں مسلمانوں کے لشکر پر صرف کر کے ان کی روانگی کا سامان کریں تو زیادہ باعث اجر ہو گا، خانہ کعبہ کو ان زیورات کی کیا ضرورت ہے۔ چنانچہ عمر نے اس کا ارادہ کر لیا اور امیرالمومنین علیہ السلام سے اس کے بار ے میں مسئلہ پوچھا۔
آپ نے فرمایا کہ جب قرآن مجید نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا تو اس وقت چار قسم کے اموال تھے، ایک مسلمانوں کا ذاتی مال تھا اسے آپ نے ان کے وارثوں میں ان کے حصہ کے مطابق تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ دوسرا مال غنیمت تھا، اسے اس کے مستحقین پر تقسیم کیا۔ تیسرا مال خمس تھا، اس مال کے اللہ تعالیٰ نے خاص مصارف مقرر کر دیئے۔ چوتھے زکوٰۃ و صدقات تھے۔ انہیں اللہ نے وہاں صرف کرنے کا حکم دیا جو ان کا مصرف ہے۔ یہ خانہ کعبہ کے زیورات اس زمانہ میں بھی موجود تھے لیکن اللہ نے ان کو ان کے حال پر رہنے دیا اور ایسا بھولے سے تو نہیں ہوا، اور نہ ان کا وجود اس پر پوشیدہ تھا۔ لہٰذا آپ بھی انہیں وہیں رہنے دیجئے جہاں اللہ اور اس کے رسول نے انہیں رکھا  ہے۔ یہ سن کر عمر نے کہا کہ اگر آپ نہ ہوتے تو ہم رسوا ہو جاتے اور زیورات ان کی حالت پر رہنے دیا۔ (270- خانہ کعبہ کے زیور) حکمت حکمت 270

حکمت (270) : بیان کیا گیا ہے کہ عمر ابن خطاب کے سامنے خانہ کعبہ کے زیورات اور ان کی کثرت کا ذکر ہوا تو کچھ لوگوں نے ان سے کہا کہ اگر آپ ان زیورات کو لے لیں اور انہیں مسلمانوں کے لشکر پر صرف کر کے ان کی روانگی کا سامان کریں تو زیادہ باعث اجر ہو گا، خانہ کعبہ کو ان زیورات کی کیا ضرورت ہے۔ چنانچہ عمر نے اس کا ارادہ کر لیا اور امیرالمومنین علیہ السلام سے اس کے بار ے میں مسئلہ پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب قرآن مجید نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا تو اس وقت چار قسم کے اموال تھے، ایک مسلمانوں کا ذاتی مال تھا اسے آپ نے ان کے وارثوں میں ان کے حصہ کے مطابق تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ دوسرا مال غنیمت تھا، اسے اس کے مستحقین پر تقسیم کیا۔ تیسرا مال خمس تھا، اس مال کے اللہ تعالیٰ نے خاص مصارف مقرر کر دیئے۔ چوتھے زکوٰۃ و صدقات تھے۔ انہیں اللہ نے وہاں صرف کرنے کا حکم دیا جو ان کا مصرف ہے۔ یہ خانہ کعبہ کے زیورات اس زمانہ میں بھی موجود تھے لیکن اللہ نے ان کو ان کے حال پر رہنے دیا اور ایسا بھولے سے تو نہیں ہوا، اور نہ ان کا وجود اس پر پوشیدہ تھا۔ لہٰذا آپ بھی انہیں وہیں رہنے دیجئے جہاں اللہ اور اس کے رسول نے انہیں رکھا ہے۔ یہ سن کر عمر نے کہا کہ اگر آپ نہ ہوتے تو ہم رسوا ہو جاتے اور زیورات ان کی حالت پر رہنے دیا۔ (270- خانہ کعبہ کے زیور)

عمر ابن خطاب کے سامنے خانہ کعبہ کے زیورات اور ان کی کثرت کا ذکر ہوا۔ امیرالمومنین نے ان کے…

مزید پڑھیے
حکمت (224) :  زیادہ خاموشی رعب و ہیبت کا باعث ہوتی ہے۔ اور انصاف سے دوستوں میں اضافہ ہوتا ہے لطف و کرم سے قدر و منزلت بلند ہوتی ہے جھک کر ملنے سے نعمت تمام ہوتی ہے۔ دوسروں کا بوجھ بٹانے سے لازماً سرداری حاصل ہوتی ہے اور خوش رفتاری سے کینہ ور دشمن مغلوب ہوتا ہے اور سر پھر ے آدمی کے مقابلہ میں بردباری کرنے سے اس کے مقابلہ میں اپنے طرفدار زیادہ ہو جاتے ہیں۔ (224- چند اوصاف) حکمت حکمت 224

حکمت (224) : زیادہ خاموشی رعب و ہیبت کا باعث ہوتی ہے۔ اور انصاف سے دوستوں میں اضافہ ہوتا ہے لطف و کرم سے قدر و منزلت بلند ہوتی ہے جھک کر ملنے سے نعمت تمام ہوتی ہے۔ دوسروں کا بوجھ بٹانے سے لازماً سرداری حاصل ہوتی ہے اور خوش رفتاری سے کینہ ور دشمن مغلوب ہوتا ہے اور سر پھر ے آدمی کے مقابلہ میں بردباری کرنے سے اس کے مقابلہ میں اپنے طرفدار زیادہ ہو جاتے ہیں۔ (224- چند اوصاف)

زیادہ خاموشی رعب و ہیبت کا باعث ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (240) :  گھر میں ایک غصبی پتھر اس کی ضمانت ہے کہ وہ تباہ و  برباد ہو کر رہے گا۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ ایک روایت میں یہ کلام رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہوا ہے اور اس میں تعجب ہی کیا ہے کہ دونوں کے کلام ایک دوسرے کے مثل ہوں کیونکہ دونوں کا سر چشمہ تو ایک ہی ہے۔ (240- غصب) حکمت حکمت 240

حکمت (240) : گھر میں ایک غصبی پتھر اس کی ضمانت ہے کہ وہ تباہ و برباد ہو کر رہے گا۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ ایک روایت میں یہ کلام رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہوا ہے اور اس میں تعجب ہی کیا ہے کہ دونوں کے کلام ایک دوسرے کے مثل ہوں کیونکہ دونوں کا سر چشمہ تو ایک ہی ہے۔ (240- غصب)

گھر میں ایک غصبی پتھر اس کی ضمانت ہے کہ وہ تباہ و برباد ہو کر رہے گا۔

مزید پڑھیے
حکمت (255) :  غصہ ایک قسم کی دیوانگی ہے کیونکہ غصہ ور بعد میں پشیمان ضرور ہوتا ہے اور اگر پشیمان نہیں ہوتا تو اُس کی دیوانگی پختہ ہے۔ (255- غیظ و غضب) حکمت حکمت 255

حکمت (255) : غصہ ایک قسم کی دیوانگی ہے کیونکہ غصہ ور بعد میں پشیمان ضرور ہوتا ہے اور اگر پشیمان نہیں ہوتا تو اُس کی دیوانگی پختہ ہے۔ (255- غیظ و غضب)

غصہ ایک قسم کی دیوانگی ہے کیونکہ غصہ ور بعد میں پشیمان ضرور ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے