Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

497 اندراجات
حکمت (225) :  تعجب ہے کہ حاسد جسمانی تندرستی پر حسد کرنے سے کیوں غافل ہو گئے۔ (225- یہ حاسد) حکمت حکمت 225

حکمت (225) : تعجب ہے کہ حاسد جسمانی تندرستی پر حسد کرنے سے کیوں غافل ہو گئے۔ (225- یہ حاسد)

تعجب ہے کہ حاسد جسمانی تندرستی پر حسد کرنے سے کیوں غافل ہو گئے۔

مزید پڑھیے
حکمت (241) :  مظلوم کے ظالم پر قابو پانے کا دن اس دن سے کہیں زیادہ ہو گا جس میں ظالم مظلوم کے خلاف اپنی طاقت دکھاتا ہے۔ (241- ظالم و مظلوم) حکمت حکمت 241

حکمت (241) : مظلوم کے ظالم پر قابو پانے کا دن اس دن سے کہیں زیادہ ہو گا جس میں ظالم مظلوم کے خلاف اپنی طاقت دکھاتا ہے۔ (241- ظالم و مظلوم)

مظلوم کے ظالم پر قابو پانے کا دن اس دن سے کہیں زیادہ ہو گا۔

مزید پڑھیے
حکمت (256) :  حسد کی کمی بدن کی تندرستی کا سبب ہے۔ (256- حسد) حکمت حکمت 256

حکمت (256) : حسد کی کمی بدن کی تندرستی کا سبب ہے۔ (256- حسد)

حسد کی کمی بدن کی تندرستی کا سبب ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (226) :  طمع کرنے والا ذلت کی زنجیروں میں گرفتار رہتا ہے۔ (226- طمع) حکمت حکمت 226

حکمت (226) : طمع کرنے والا ذلت کی زنجیروں میں گرفتار رہتا ہے۔ (226- طمع)

طمع کرنے والا ذلت کی زنجیروں میں گرفتار رہتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (242) :  اللہ سے کچھ تو ڈرو، چاہے وہ کم ہی ہو، اور اپنے اور اللہ کے درمیان کچھ تو پردہ رکھو، چاہے وہ باریک ہی سا ہو۔ (242- تقویٰ) حکمت حکمت 242

حکمت (242) : اللہ سے کچھ تو ڈرو، چاہے وہ کم ہی ہو، اور اپنے اور اللہ کے درمیان کچھ تو پردہ رکھو، چاہے وہ باریک ہی سا ہو۔ (242- تقویٰ)

اللہ سے کچھ تو ڈرو، چاہے وہ کم ہی ہو، اور اپنے اور اللہ کے درمیان کچھ تو پردہ رکھو۔

مزید پڑھیے
حکمت (257) :  کمیل ابن زیاد نخعی سے فرمایا: اے کمیل! اپنے عزیز و اقارب کو ہدایت کرو کہ وہ اچھی خصلتوں کو حاصل کرنے کے لیے دن کے وقت نکلیں اور رات کو سو جانے والے کی حاجت روائی کو چل کھڑے ہوں۔ اُس ذات کی قسم جس کی قوتِ شنوائی تمام آوازوں پر حاوی ہے، جِس کسی نے بھی کسی کے دل کو خوش کیا تو اللہ اُس کے لیے اُس سرور سے ایک لطفِ خاص خلق فرمائے گا کہ جب بھی اُس پر کوئی مصیبت نازل ہو تو وہ نشیب میں بہنے والے پانی کی طرح تیزی سے بڑھے اور اجنبی اونٹوں کو ہنکانے کی طرح اس مصیبت کو ہنکا کر دور کر دے۔ (257- حاجت روائی) حکمت حکمت 257

حکمت (257) : کمیل ابن زیاد نخعی سے فرمایا: اے کمیل! اپنے عزیز و اقارب کو ہدایت کرو کہ وہ اچھی خصلتوں کو حاصل کرنے کے لیے دن کے وقت نکلیں اور رات کو سو جانے والے کی حاجت روائی کو چل کھڑے ہوں۔ اُس ذات کی قسم جس کی قوتِ شنوائی تمام آوازوں پر حاوی ہے، جِس کسی نے بھی کسی کے دل کو خوش کیا تو اللہ اُس کے لیے اُس سرور سے ایک لطفِ خاص خلق فرمائے گا کہ جب بھی اُس پر کوئی مصیبت نازل ہو تو وہ نشیب میں بہنے والے پانی کی طرح تیزی سے بڑھے اور اجنبی اونٹوں کو ہنکانے کی طرح اس مصیبت کو ہنکا کر دور کر دے۔ (257- حاجت روائی)

کمیل ابن زیاد نخعی سے فرمایا: اپنے عزیز و اقارب کو ہدایت کرو کہ وہ اچھی خصلتوں کو حاصل کرنے…

مزید پڑھیے
حکمت (227) :  آپ سے ایمان کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ ایمان دل سے پہچاننا، زبان سے اقرار کرنا اور اعضا سے عمل کرنا ہے۔ (227- ایمان کی تعریف) حکمت حکمت 227

حکمت (227) : آپ سے ایمان کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ ایمان دل سے پہچاننا، زبان سے اقرار کرنا اور اعضا سے عمل کرنا ہے۔ (227- ایمان کی تعریف)

ایمان دل سے پہچاننا، زبان سے اقرار کرنا اور اعضا سے عمل کرنا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (243) :  جب (ایک سوال کے لیے) جوابات کی بہتات ہو جائے تو صحیح بات چھپ جایا کرتی ہے۔ (243- جوابات کی کثرت) حکمت حکمت 243

حکمت (243) : جب (ایک سوال کے لیے) جوابات کی بہتات ہو جائے تو صحیح بات چھپ جایا کرتی ہے۔ (243- جوابات کی کثرت)

جب (ایک سوال کے لیے) جوابات کی بہتات ہو جائے تو صحیح بات چھپ جایا کرتی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (258) :  جب تنگدست ہو جاؤ تو صدقہ کے ذریعے بچو۔ (258- صدقہ) حکمت حکمت 258

حکمت (258) : جب تنگدست ہو جاؤ تو صدقہ کے ذریعے بچو۔ (258- صدقہ)

جب تنگدست ہو جاؤ تو صدقہ کے ذریعے بچو۔

مزید پڑھیے
حکمت (228) :  جو دنیا کے لیے اندوہناک ہو وہ قضا و قدر الہی سے ناراض ہے اور جو اس مصیبت پر کہ جس میں مبتلا ہے شکوہ کرے تو وہ اپنے پروردگار کا شاکی ہے اور جو کسی دولت مند کے پاس پہنچ کر اس کی دولتمندی کی وجہ سے جھکے تو اس کا دو تہائی دین جاتا رہتا ہے اور جو شخص قرآن کی تلاوت کرے پھر مر کر دوزخ میں داخل ہو تو ایسے ہی لوگوں میں سے ہو گا، جو اللہ کی آیتوں کا مذاق اڑاتے تھے اور جس کا دل دنیا کی محبت میں وارفتہ ہو جائے تو اس کے دل میں دنیا کی یہ تین چیزیں پیوست ہو جاتی ہیں۔ ایسا غم کہ جو اس سے جدا نہیں ہوتا اور ایسی حرص کہ جو اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور ایسی امید کہ جو بر نہیں آتی۔ (228- غم دنیا) حکمت حکمت 228

حکمت (228) : جو دنیا کے لیے اندوہناک ہو وہ قضا و قدر الہی سے ناراض ہے اور جو اس مصیبت پر کہ جس میں مبتلا ہے شکوہ کرے تو وہ اپنے پروردگار کا شاکی ہے اور جو کسی دولت مند کے پاس پہنچ کر اس کی دولتمندی کی وجہ سے جھکے تو اس کا دو تہائی دین جاتا رہتا ہے اور جو شخص قرآن کی تلاوت کرے پھر مر کر دوزخ میں داخل ہو تو ایسے ہی لوگوں میں سے ہو گا، جو اللہ کی آیتوں کا مذاق اڑاتے تھے اور جس کا دل دنیا کی محبت میں وارفتہ ہو جائے تو اس کے دل میں دنیا کی یہ تین چیزیں پیوست ہو جاتی ہیں۔ ایسا غم کہ جو اس سے جدا نہیں ہوتا اور ایسی حرص کہ جو اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور ایسی امید کہ جو بر نہیں آتی۔ (228- غم دنیا)

جو دنیا کے لیے اندوہناک ہو وہ قضا و قدر الہی سے ناراض ہے۔

مزید پڑھیے