Hikmat
مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب
حکمت
حکمت 233
حکمت (233) : اپنے فرزند امام حسن علیہ السّلام سے فرمایا کسی کو مقابلہ کے لیے خود نہ للکارو۔ ہاں اگر دوسرا للکارے تو فورا ً جواب دو۔ اس لیے کہ جنگ کی خود سے دعوت دینے والا زیادتی کرنے والا ہے، اور زیادتی کرنے والا تباہ ہوتا ہے۔ (233- دعوت مقابلہ)
اپنے فرزند امام حسن علیہ السّلام سے فرمایا کسی کو مقابلہ کے لیے خود نہ للکارو۔
حکمت
حکمت 248
حکمت (248) : جو تم سے حسن ظن رکھے، اس کے گمان کو سچاثابت کرو۔ (248- حُسنِ ظن)
جو تم سے حسن ظن رکھے، اس کے گمان کو سچاثابت کرو۔
حکمت
حکمت 234
حکمت (234) : عورتوں کی بہتر ین خصلتیں وہ ہیں جو مردوں کی بدترین صفتیں ہیں۔ غرور، بزدلی اور کنجوسی اس لیے کہ عورت جب مغرور ہو گی، تو وہ کسی کو اپنے نفس پر قابو نہ دے گی اور کنجوس ہو گی تو اپنے اور شوہر کے مال کی حفاظت کرے گی اور بزدل ہو گی تو وہ ہر اس چیز سے ڈرے گی جو پیش آئے گی۔ (234- عورت و مرد کے صفات)
عورتوں کی بہترین خصلتیں وہ ہیں جو مردوں کی بدترین صفتیں ہیں۔
حکمت
حکمت 249
حکمت (249) : بہترین عمل وہ ہے جس کے بجا لانے پر تمہیں اپنے نفس کو مجبور کرنا پڑے۔ (249- افضل اعمال)
بہترین عمل وہ ہے جس کے بجا لانے پر تمہیں اپنے نفس کو مجبور کرنا پڑے۔
حکمت
حکمت 235
حکمت (235) : آپ علیہ السّلام سے عرض کیا گیا کہ عقلمند کے اوصاف بیان کیجئے۔ فرمایا! عقلمند وہ ہے جو ہر چیز کو اس کے موقع و محل پر رکھے۔ پھر آپ سے کہا گیا کہ جاہل کا وصف بتایئے تو فرمایا میں بیان کر چکا۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ مقصد یہ ہے کہ جاہل وہ ہے جو کسی چیز کو اس کے موقع و محل پر نہ رکھے۔ گویا حضرت کا اسے نہ بیان کر نا ہی بیان کرنا ہے۔ کیونکہ اس کے اوصاف عقلمند کے اوصاف کے برعکس ہیں۔ (235- عاقل و جاہل)
آپ علیہ السّلام نے عقلمند کے اوصاف بیان کیے۔ عقلمند وہ ہے جو ہر چیز کو اس کے موقع و…
حکمت
حکمت 250
حکمت (250) : میں نے اللہ سبحانہ کو پہچانا ارادوں کے ٹوٹ جانے،نیتوں کے بدل جانے، اور ہمتوں کے پست ہو جانے سے۔ (250- خداشناسی)
میں نے اللہ سبحانہ کو پہچانا ارادوں کے ٹوٹ جانے،نیتوں کے بدل جانے، اور ہمتوں کے پست ہو جانے سے۔
حکمت
حکمت 236
حکمت (236) : خدا کی قسم تمہاری یہ دنیا میرے نزدیک سور کی انتڑیوں سے بھی زیادہ ذلیل ہے جو کسی کوڑھی کے ہاتھ میں ہوں۔ (236- دنیا کی بے قدری)
خدا کی قسم تمہاری یہ دنیا میرے نزدیک سور کی انتڑیوں سے بھی زیادہ ذلیل ہے۔
حکمت
حکمت 251
حکمت (251) : دنیا کی تلخی آخرت کی خوشگواری ہے اور دنیا کی خوشگواری آخرت کی تلخی ہے۔ (251- تلخی و شیرینی)
دنیا کی تلخی آخرت کی خوشگواری ہے اور دنیا کی خوشگواری آخرت کی تلخی ہے۔
حکمت
حکمت 221
حکمت (221) : آخرت کے لیے بہت برا توشہ ہے بندگان خدا پر ظلم و تعدی کرنا۔ (221- ظلم و تعدی)
آخرت کے لیے بہت برا توشہ ہے بندگان خدا پر ظلم و تعدی کرنا۔
حکمت
حکمت 237
حکمت (237) : ایک جماعت نے اللہ کی عبادت ثواب کی رغبت و خواہش کے پیشِ نظر کی، یہ سودا کرنے والوں کی عبادت ہے اور ایک جماعت نے خوف کی وجہ سے اس کی عبادت کی، اور یہ غلاموں کی عبادت ہے اور ایک جماعت نے ازروئے شکر و سپاس گزاری اس کی عبادت کی، یہ آزادوں کی عبادت ہے۔ (237- عبادت کے اقسام)
ایک جماعت نے اللہ کی عبادت ثواب کی رغبت و خواہش کے پیشِ نظر کی، یہ سودا کرنے والوں کی…
