Hikmat
مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب
حکمت
حکمت 244
حکمت (244) : بے شک اللہ تعالیٰ کے لیے ہر نعمت میں حق ہے تو جو اس حق کو ادا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے نعمت کو اور بڑھاتا ہے۔ اور جو کوتاہی کرتا ہے وہ موجودہ نعمت کو بھی خطرہ میں ڈالتا ہے۔ (244- شکر و سپاس)
بے شک اللہ تعالیٰ کے لیے ہر نعمت میں حق ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 259
حکمت (259) : غداروں سے وفا کرنا اللہ کے نزدیک غداری ہے اور غداروں کے ساتھ غداری کرنا اللہ کے نزدیک عین وفا ہے۔ (259- وفا و غداری)
غداروں سے وفا کرنا اللہ کے نزدیک غداری ہے اور غداروں کے ساتھ غداری کرنا اللہ کے نزدیک عین وفا…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 229
حکمت (229) : قناعت سے بڑھ کر کوئی سلطنت اور خو ش خلقی سے بڑھ کر کوئی عیش و آرام نہیں ہے۔ حضرت سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا گیا کہ »ہم اس کو پاک و پاکیزہ زندگی دیں گے «؟ آپ نے فرمایا کہ وہ قناعت ہے۔ (229- قناعت)
قناعت سے بڑھ کر کوئی سلطنت اور خوش خلقی سے بڑھ کر کوئی عیش و آرام نہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 245
حکمت (245) : جب مقدرت زیادہ ہو جاتی ہے تو خواہش کم ہو جاتی ہے۔ (245- خواہشات کی کمی)
جب مقدرت زیادہ ہو جاتی ہے تو خواہش کم ہو جاتی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 230
حکمت (230) : جس کی طرف فراخِ روزی کئے ہوئے ہو اس کے ساتھ شرکت کرو، کیونکہ اس میں دولت حاصل کرنے کا زیادہ امکان اور خوش نصیبی کا زیادہ قرینہ ہے۔ (230- شرکت)
جس کی طرف فراخِ روزی کئے ہوئے ہو اس کے ساتھ شرکت کرو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 245
حکمت (245) : جب مقدرت زیادہ ہو جاتی ہے تو خواہش کم ہو جاتی ہے۔
جب مقدرت زیادہ ہو جاتی ہے تو خواہش کم ہو جاتی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 231
حکمت (231) : خداوند عالم کے ارشاد کے مطابق کہ اللہ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے۔ فرمایا ! عدل انصاف ہے اور احسان لطف و کرم۔ (231- عدل و احسان)
خداوند عالم کے ارشاد کے مطابق کہ اللہ تمہیں عدل و احسان کا حکم دیتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 246
حکمت (246) : نعمتوں کے زائل ہونے سے ڈرتے رہو کیونکہ ہر بے قابو ہو کر نکل جانے والی چیز پلٹا نہیں کرتی۔ (246- کفرانِ نعمت)
نعمتوں کے زائل ہونے سے ڈرتے رہو کیونکہ ہر بے قابو ہو کر نکل جانے والی چیز پلٹا نہیں کرتی۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 232
حکمت (232) : جو عاجز و قاصر ہاتھ سے دیتا ہے اسے با اقتدار ہاتھ سے ملتا ہے۔ سید رضی کہتے ہیں کہ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے مال میں سے کچھ خیر و نیکی کی راہ میں خر چ کرتا ہے اگرچہ وہ کم ہو، مگر خداوند عالم اس کا اجر بہت زیادہ قرار دیتا ہے اور اس مقام پر دو ہاتھوں سے مراد دو نعمتیں ہیں اور امیرالمومنین علیہ السلام نے بندہ کی نعمت اور پروردگار کی نعمت میں فرق بتایا ہے کہ وہ تو عجز و قصور کی حامل ہے اور و ہ با اقتدار ہے۔ کیونکہ اللہ کی عطا کردہ نعمتیں مخلوق کی دی ہوئی نعمتوں سے ہمیشہ بدر جہا بڑھی چڑھی ہوتی ہیں۔ اس لیے کہ اللہ ہی کی نعمتیں تمام نعمتوں کا سر چشمہ ہیں۔ لہٰذا ہر نعمت انہی نعمتوں کی طرف پلٹتی ہے، اور انہی سے وجود پاتی ہے۔ (232- اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے)
جو عاجز و قاصر ہاتھ سے دیتا ہے اسے با اقتدار ہاتھ سے ملتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 247
حکمت (247) : جذبہ کرم رابطہ قرابت سے زیادہ لطیف و مہر بانی کا سبب ہوتا ہے۔ (247- جذبۂ کرم)
جذبہ کرم رابطہ قرابت سے زیادہ لطیف و مہر بانی کا سبب ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے
