Hikmat
مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب
حکمت
حکمت 97
حکمت (97) : ایک خارجی کے متعلق آپ علیہ السّلام نے سنا کہ وہ نمازِ شب پڑھتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو آپ نے فرمایا: یقین کی حالت میں سونا، شک کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ (97- ایک خارجی کی عبادت)
ایک خارجی کے متعلق آپ علیہ السّلام نے سنا کہ وہ نمازِ شب پڑھتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا…
حکمت
حکمت 113
حکمت (113) : عقل سے بڑھ کر کوئی مال سود مند اور خود بینی سے بڑھ کر کوئی تنہائی وحشتناک نہیں اور تدبر سے بڑھ کر کوئی عقل کی بات نہیں اور کوئی بزرگی تقویٰ کے مثل نہیں اور خوش خلقی سے بہتر کوئی ساتھی اور ادب کے مانند کوئی میراث نہیں اور توفیق کے مانند کوئی پیشرو اور اعمال خیر سے بڑھ کر کوئی تجارت نہیں اور ثواب کا ایسا کوئی نفع نہیں اور کوئی پرہیز گاری شبہات میں توقف سے بڑھ کر نہیں اور حرام کی طرف بے رغبتی سے بڑھ کر کوئی زہد اور تفکر اور پیش بینی سے بڑھ کر کوئی علم نہیں اور ادائے فرائض کے مانند کوئی عبادت اور حیا و صبر سے بڑھ کر کوئی ایمان نہیں اور فروتنی سے بڑھ کر کوئی سرفرازی نہیں اور علم کے مانند کوئی بزرگی و شرافت نہیں حلم کے مانند کوئی عزت اور مشورہ سے مضبوط کوئی پشت پناہ نہیں (113- پسندیدہ اوصاف)
عقل سے بڑھ کر کوئی مالِ سودمند اور خودبینی سے بڑھ کر کوئی تنہائی وحشتناک نہیں۔
حکمت
حکمت 82
حکمت (82) : تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے۔ کہ اگر انہیں حاصل کرنے کے لیے اونٹوں کو ایڑ لگا کر تیز ہنکاؤ، تو وہ اسی قابل ہوں گی۔ تم میں سے کوئی شخص اللہ کے سوا کسی سے آس نہ لگائے اور اس کے گناہ کے علاوہ کسی شے سے خوف نہ کھائے اور اگر تم میں سے کسی سے کوئی ایسی بات پوچھی جائے کہ جسے وہ نہ جانتا ہو تو یہ کہنے میں نہ شرمائے کہ میں نہیں جانتا اور اگر کوئی شخص کسی بات کو نہیں جانتا تو اس کے سیکھنے میں شرمائے نہیں، اور صبر و شکیبائی اختیار کرو کیونکہ صبر کو ایمان سے وہی نسبت ہے جو سر کو بدن سے ہوتی ہے۔ اگر سر نہ ہو تو بدن بیکار ہے، یونہی ایمان کے ساتھ صبر نہ ہو تو ایمان میں کوئی خوبی نہیں۔ (82- پانچ نصیحتیں)
تمہیں ایسی پانچ باتوں کی ہدایت کی جاتی ہے۔
حکمت
حکمت 98
حکمت (98) : جب کوئی حدیث سنو تو اسے عقل کے معیار پر پرکھ لو، صرف نقل الفاظ پر بس نہ کرو، کیونکہ علم کے نقل کرنے والے تو بہت ہیں اور اس میں غور کرنے والے کم ہیں۔ (98- روایت و درایت)
جب کوئی حَدِیث سُنُو تو اُسے عَقَل کے مِیَار پر پَرکھ لو، صرف نَقْلِ الفاظ پر بَس نہ کَرُو۔
حکمت
حکمت 114
حکمت (114) : جب دنیا اور اہل دنیا میں نیکی کا چلن ہو، اور پھر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے کہ جس سے رسوائی کی کوئی بات ظاہر نہیں ہوئی سُوِ ظن رکھے تو اس نے اس پر ظلم و زیادتی کی اور جب دنیا و اہل دنیا پر شر و فساد کا غلبہ ہو اور پھر کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے حسن ظن رکھے تو اس نے (خود ہی اپنے کو) خطرے میں ڈالا۔ (114- خوش گمانی و بد گمانی)
جب دُنیا اور اہلِ دُنیا میں نیکی کا چلن ہو، اور پھر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے سُوءِ ظن…
حکمت
حکمت 83
حکمت (83) : ایک شخص نے آپ کی بہت زیادہ تعریف کی حالانکہ وہ آپ سے عقیدت و ارادت نہ رکھتا تھا ، تو آپ نے فرمایا جب تمہاری زبان پر ہے میں اس سے کم ہوں اور جو تمہارے دل میں ہے اس سے زیادہ ہوں۔ (83- مدح سرائی)
ایک شَخص نے آپ کی بَہت زیادہ تَعریف کی حالانکہ وہ آپ سے عَقیدَت و اِرادَت نہ رکھتا تھا۔
حکمت
حکمت 99
حکمت (99) : ایک شخص کو اِنَا لِلّٰہِ وَ اِنَا اِلَیْهِ رَاجِعُونَ، (ہم اللہ کے ہیں اور اللہ کی طرف پلٹنا ہے) کہتے سنا تو فرمایا کہ ہمارا یہ کہنا کہ »ہم اللہ کے ہیں«۔ اس کے مالک ہونے کا اعتراف ہے اور یہ کہنا کہ ہمیں اسی کی طرف پلٹنا ہے۔ یہ اپنے لیے فنا کا اقرار ہے۔ (99- ﴿ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ﴾ کی تفسیر)
ہم ٱللَّهِ کے ہیں اور ٱللَّهِ کی طرف پلٹنا ہے۔ یہ فَنَا کا اقرار ہے۔
حکمت
حکمت 115
حکمت (115) : امیر المومنین علیہ السّلام سے دریافت کیا گیا کہ آپ علیہ السّلام کا حال کیسا ہے ؟ تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا: کہ اس کا حال کیا ہو گا جسے زندگی موت کی طرف لیے جا رہی ہو، اور جس کی صحت بیماری کا پیش خیمہ ہو اور جسے اپنی پناہ گاہ سے گرفت میں لے لیا جائے۔ (115- مزاج پُرسی کا جواب)
امیر المومنین علیہ السلام کا حالِ زندگی اور موت کے درمیان ہے۔
حکمت
حکمت 84
حکمت (84) : تلوار سے بچے کھچے لوگ زیادہ باقی رہتے ہیں اور ان کی نسل زیادہ ہوتی ہے۔ (84- بقیۃ السیف)
تلوار سے بچے کھچے لوگ زیادہ باقی رہتے ہیں اور ان کی نسل زیادہ ہوتی ہے۔
حکمت
حکمت 100
حکمت (100) : کچھ لوگوں نے آپ علیہ السّلام کے روبرو آپ علیہ السّلام کی مدح و ستائش کی، تو فرمایا۔ اے اللہ! تو مجھے مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے، اور ان لوگوں سے زیادہ اپنے نفس کو میں پہچانتا ہوں۔ اے خدا جب ان لوگوں کا خیال ہے ہمیں اس سے بہتر قرار دے اور ان (لغزشوں) کو بخش دے جن کا انہیں علم نہیں۔ (100- جواب مدح)
کچھ لوگوں نے آپ علیہ السّلام کے روبرو آپ علیہ السّلام کی مدح و ستائش کی، تو فرمایا۔
