Hikmat
مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب
حکمت
حکمت 88
حکمت (88) : دنیا میں عذابِ خدا سے دو چیزیں باعثِ امان تھیں، ایک ان میں سے اٹھ گئی، مگر دوسری تمہارے پاس موجود ہے۔ لہٰذا اسے مضبوطی سے تھامے رہو۔ وہ امان جو اٹھا لی گئی وہ رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے اور وہ امان جو باقی رہ گئی ہے وہ توبہ و استغفار ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: »اللہ لوگوں پر عذاب نہیں کرے گا جب تک تم ان میں موجود ہو«۔ اللہ ان لوگوں پر عذاب نہیں اتارے گا، جب کہ یہ لوگ توبہ و استغفار کر رہے ہوں گے۔ (88- ایک لطیف استنباط)
دنیا میں عذابِ خدا سے دو چیزیں باعثِ امان تھیں، ایک اٹھ گئی، مگر دوسری تمہارے پاس موجود ہے۔
حکمت
حکمت 104
حکمت (104) : نوف ابن فضالہ بکالی کہتے ہیں کہ میں نے ایک شب امیرالمومنین علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ فرش خواب سے اٹھے ایک نظر ستاروں پر ڈالی اور پھر فرمایا اے نوف! سوتے ہو یا جاگ رہے ہو؟ میں نے کہا کہ یا امیرالمومنین علیہ السّلام جاگ رہا ہوں۔ فرمایا! اے نوف! خوشا نصیب ان کے کہ جنہوں نے دنیا میں زہد اختیار کیا، اور ہمہ تن آخرت کی طرف متوجہ رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زمین کو فرش، مٹی کو بستر اور پانی کو شربت خوش گوار قرار دیا۔ قرآن کو سینے سے لگایا اور دعا کو سپر بنایا۔ پھر حضرت مسیح کی طرح دامن جھاڑ کر دنیا سے الگ ہو گئے۔ اے نوف! داؤد علیہ السلام رات کے ایسے ہی حصے میں اٹھے اور فرمایا کہ یہ وہ گھڑی ہے کہ جس میں بندہ جب بھی دعا مانگے مستجاب ہو گی سوا اس شخص کے جو سرکاری ٹیکس وصول کرنے والا، یا لوگوں کی برائیاں کرنے والا، یا (کسی ظالم حکومت کی) پولیس میں ہو یا سارنگی یا ڈھول تاشہ بجانے والا ہو۔ (104- نوف بکالی کا بیان)
نوف ابن فضالہ بکالی کہتے ہیں کہ میں نے ایک شب امیرالمومنین علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ فرشِ خواب…
حکمت
حکمت 120
حکمت (120) : حضرت سے قریش کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ (قبیلہ) بنی مخزوم قریش کا مہکتا ہوا پھول ہیں، ان کے مردوں سے گفتگو اور ان کی عورتوں سے شادی پسندیدہ ہے اور بنی عبد شمس دور اندیش اور پیٹھ پیچھے کی اوجھل چیزوں کی پوری روک تھام کرنے والے ہیں لیکن ہم (بنی ہاشم) تو جب ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اسے صرف کر ڈالتے ہیں، اور موت آنے پر جان دیتے ہیں۔ بڑے جوانمرد ہوتے ہیں اور یہ بنی (عبد شمس) گنتی میں زیادہ حیلہ باز اور بدصورت ہوتے ہیں اور ہم خوش گفتار خیر خواہ اور خوب صورت ہوتے ہیں۔ (120- قریش کی خصوصیت)
حضرت سے قریش کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ (قبیلہ) بنی مخزوم قریش کا مہکتا…
حکمت
حکمت 89
حکمت (89) : جب نے اپنے اور اللہ کے مابین معاملات کو ٹھیک رکھا، تو اللہ اس کے اور لوگوں کے معاملات سلجھائے رکھے گا اور جب نے اپنی آخرت کو سنوار لیا، تو خدا اس کی دنیا بھی سنوار دے گا اور جب خود اپنے کو وعظ و پند کر لے، تو اللہ کی طرف سے اس کی حفاظت ہوتی رہے گی۔ (89- اللہ سے خوش معاملگی)
جس نے اپنے اور اللہ کے مابین معاملات کو ٹھیک رکھا، اللہ اس کے معاملات سلجھائے رکھے گا۔
حکمت
حکمت 105
حکمت (105) : اللہ نے چند فرائض تم پر عائد کئے ہیں انہیں ضائع نہ کرو۔ اور تمہارے حدودِ کار مقرر کر دیئے گئے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو۔ اس نے چند چیزوں سے تمہیں منع کیا ہے اس کی خلاف ورزی نہ کرو، اور جن چند چیزوں کا اس نے حکم بیان نہیں کیا، انہیں بھولے سے نہیں چھوڑ دیا۔ لہٰذا خواہ مخواہ انہیں جاننے کی کوشش نہ کرو۔ (105- فرائض کی پابندی)
اللہ نے چند فرائض تم پر عائد کئے ہیں، انہیں ضائع نہ کرو۔
حکمت
حکمت 90
حکمت (90) : پورا عالم و دانا وہ ہے جب لوگوں کو رحمتِ خدا سے مایوس اور اس کی طرف سے حاصل ہونے والی آسائش و راحت سے نا امید نہ کرے، اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن کر دے۔ (90- پورا علم)
پورا عالم و دانا وہ ہے جب لوگوں کو رحمتِ خدا سے مایوس نہ کرے۔
حکمت
حکمت 106
حکمت (106) : جب لوگ اپنی دنیا سنوارنے کے لیے دین سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں تو خدا اس دنیاوی فائدہ سے کہیں زیادہ ان کے لیے نقصان کی صورتیں پیدا کر دیتا ہے۔ (106- دین سے بے اعتنائی)
جب لوگ اپنی دنیا سنوارنے کے لیے دین سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں تو خدا ان کے لیے نقصان کی…
حکمت
حکمت 91
حکمت (91) : یہ دل بھی اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بدن اکتا جاتے ہیں۔ لہٰذا (جب ایسا ہو تو) ان کے لیے لطیف حکیمانہ نکات تلاش کرو۔ (91- دل کی خستگی)
یہ دِل بھی اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بَدَن اکتا جاتے ہیں۔
حکمت
حکمت 107
حکمت (107) : بہت سے پڑھے لکھوں کو (دین سے) بے خبری تباہ کر دیتی ہے اور جب علم ان کے پاس ہوتا ہے انہیں ذرا بھی فائدہ نہیں پہنچاتا۔ (107- غیر مفید علم)
بہت سے پڑھے لکھوں کو (دین سے) بے خبری تباہ کر دیتی ہے اور جب علم ان کے پاس ہوتا…
حکمت
حکمت 92
حکمت (92) : وہ علم بہت بے قدر و قیمت ہے جب زبان تک رہ جائے، اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے جو اعضا و جوارح سے نمودار ہو۔ (92- علم بے عمل)
وہ علم بہت بے قدر و قیمت ہے جب زبان تک رہ جائے، اور وہ علم بہت بلند مرتبہ ہے…
