Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

497 اندراجات
حکمت (108) :  اس انسان سے بھی زیادہ عجیب وہ گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جو اس کی ایک رگ کے ساتھ آویزاں کر دیا گیا ہے اور وہ دل ہے جس میں حکمت و دانائی کے ذخیرے ہیں اور اس کے برخلاف بھی صفتیں پائی جاتی ہیں۔ اگر اسے امید کی جھلک نظر آتی ہے تو طمع اسے ذلت میں مبتلا کر تی ہے اور اگر طمع ابھرتی ہے تو اسے حرص تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ اگر ناامیدی اس پر چھا جاتی ہے تو حسرت و اندوہ اس کے لیے جان لیوا بن جاتے ہیں اور اگر غضب اس پر طاری ہوتا ہے تو غم و غصہ شدت اختیار کر لیتا ہے اور اگر خوش و خوشنود ہوتا ہے تو حفظ ماتقدم کو بھول جاتا ہے اور اگر اچانک اس پر خوف طاری ہوتا ہے تو فکر و اندیشہ دوسری قسم کے تصورات سے اسے روک دیتا ہے۔ اگر امن امان کا دور دورہ ہوتا ہے تو غفلت اس پر قبضہ کر لیتی ہے اور اگر مال دولتمند ی اسے سرکش بنا دیتی ہے اور اگر اس پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو بے تابی و بے قرار ی اسے رسوا کر دیتی ہے۔ اور اگر فقر و فاقہ کی تکلیف میں مبتلا ہو تو مصیبت و ابتلاء اسے جکڑ لیتی ہے اور اگر بھوک اس پر غلبہ کرتی ہے تو ناتوانی اسے اٹھنے نہیں دیتی اور اگر شکم پری بڑھ جاتی ہے تو یہ شکم پری اس کے لیے کرب و اذیت کا باعث ہوتی ہے۔ کوتاہی اس کے لیے نقصان رساں اور حد سے زیادتی اس کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔ (108- دل کی حالت) حکمت حکمت 108

حکمت (108) : اس انسان سے بھی زیادہ عجیب وہ گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جو اس کی ایک رگ کے ساتھ آویزاں کر دیا گیا ہے اور وہ دل ہے جس میں حکمت و دانائی کے ذخیرے ہیں اور اس کے برخلاف بھی صفتیں پائی جاتی ہیں۔ اگر اسے امید کی جھلک نظر آتی ہے تو طمع اسے ذلت میں مبتلا کر تی ہے اور اگر طمع ابھرتی ہے تو اسے حرص تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ اگر ناامیدی اس پر چھا جاتی ہے تو حسرت و اندوہ اس کے لیے جان لیوا بن جاتے ہیں اور اگر غضب اس پر طاری ہوتا ہے تو غم و غصہ شدت اختیار کر لیتا ہے اور اگر خوش و خوشنود ہوتا ہے تو حفظ ماتقدم کو بھول جاتا ہے اور اگر اچانک اس پر خوف طاری ہوتا ہے تو فکر و اندیشہ دوسری قسم کے تصورات سے اسے روک دیتا ہے۔ اگر امن امان کا دور دورہ ہوتا ہے تو غفلت اس پر قبضہ کر لیتی ہے اور اگر مال دولتمند ی اسے سرکش بنا دیتی ہے اور اگر اس پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو بے تابی و بے قرار ی اسے رسوا کر دیتی ہے۔ اور اگر فقر و فاقہ کی تکلیف میں مبتلا ہو تو مصیبت و ابتلاء اسے جکڑ لیتی ہے اور اگر بھوک اس پر غلبہ کرتی ہے تو ناتوانی اسے اٹھنے نہیں دیتی اور اگر شکم پری بڑھ جاتی ہے تو یہ شکم پری اس کے لیے کرب و اذیت کا باعث ہوتی ہے۔ کوتاہی اس کے لیے نقصان رساں اور حد سے زیادتی اس کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔ (108- دل کی حالت)

اس انسان سے بھی زیادہ عجیب وہ گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جب اس کی ایک رگ کے ساتھ آویزاں…

مزید پڑھیے
حکمت (93) :  تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ »اے اللہ! میں تجھ سے فتنہ و آزمائش سے پناہ چاہتا ہوں اس لیے کہ کوئی شخص ایسا نہیں جب فتنہ کی لپیٹ میں نہ ہو، بلکہ جب پناہ مانگے وہ گمراہ کرنے والے فتنوں سے پناہ مانگے کیونکہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے اور اس بات کو جانے رہو کہ تمہارا مال اور اولاد فتنہ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ لوگوں کو مال اور اولاد کے ذریعے آزماتا ہے تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ کون اپنی قسمت پر شاکر ہے اگرچہ اللہ سبحانہ ان کو اتنا جانتا ہے کہ وہ خود بھی اپنے کو اتنا نہیں جانتے۔ لیکن یہ آزمائش اس لیے ہے کہ وہ افعال سامنے آئیں جن سے ثواب و عذاب کا استحقاق پیدا ہوتا ہے کیونکہ بعض اولاد نرینہ کو چاہتے ہیں، اور لڑکیوں سے کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اور بعض مال بڑھانے کو پسند کرتے ہیں اور بعض شکستہ حالی کو برا سمجھتے ہیں۔ (93- فتنہ کی تفسیر) حکمت حکمت 93

حکمت (93) : تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ »اے اللہ! میں تجھ سے فتنہ و آزمائش سے پناہ چاہتا ہوں اس لیے کہ کوئی شخص ایسا نہیں جب فتنہ کی لپیٹ میں نہ ہو، بلکہ جب پناہ مانگے وہ گمراہ کرنے والے فتنوں سے پناہ مانگے کیونکہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے اور اس بات کو جانے رہو کہ تمہارا مال اور اولاد فتنہ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ لوگوں کو مال اور اولاد کے ذریعے آزماتا ہے تاکہ یہ ظاہر ہو جائے کہ کون اپنی قسمت پر شاکر ہے اگرچہ اللہ سبحانہ ان کو اتنا جانتا ہے کہ وہ خود بھی اپنے کو اتنا نہیں جانتے۔ لیکن یہ آزمائش اس لیے ہے کہ وہ افعال سامنے آئیں جن سے ثواب و عذاب کا استحقاق پیدا ہوتا ہے کیونکہ بعض اولاد نرینہ کو چاہتے ہیں، اور لڑکیوں سے کبیدہ خاطر ہوتے ہیں اور بعض مال بڑھانے کو پسند کرتے ہیں اور بعض شکستہ حالی کو برا سمجھتے ہیں۔ (93- فتنہ کی تفسیر)

تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ »اے اللہ! میں تجھ سے فتنہ و آزمائش سے پناہ چاہتا…

مزید پڑھیے
حکمت (۱۰۹) :  ہم (اہلِ بیت) ہی وہ نقطۂ اعتدال ہیں کہ پیچھے رہ جانے والے کو اس سے آ کر ملنا ہے اور آگے بڑھ جانے والے کو اس کی طرف پلٹ کر آنا ہے۔ (109- مرکز ہدایت) حکمت حکمت ۱۰۹

حکمت (۱۰۹) : ہم (اہلِ بیت) ہی وہ نقطۂ اعتدال ہیں کہ پیچھے رہ جانے والے کو اس سے آ کر ملنا ہے اور آگے بڑھ جانے والے کو اس کی طرف پلٹ کر آنا ہے۔ (109- مرکز ہدایت)

ہم (اہلِ بیت) ہی وہ نقطۂ اعتدال ہیں کہ پیچھے رہ جانے والے کو اس سے آ کر ملنا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (94) :  آپ سے دریافت کیا گیا کہ نیکی کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ نیکی یہ نہیں کہ تمہارے مال و اولاد میں فراوانی ہو جائے۔ بلکہ خوبی یہ ہے کہ تمہارا علم زیادہ اور حلم بڑا ہو، اور تم اپنے پروردگار کی عبادت پر ناز کرسکو۔ اب اگر اچھا کام کرو تو اللہ کا شکر بجا لاؤ، اور اگر کسی برائی کا ارتکاب کرو تو توبہ و استغفار کرو، اور دنیا میں صرف دو شخصوں کے لیے بھلائی ہے۔ ایک وہ جو گناہ کرے تو توبہ سے اس کی تلافی کرے اور دوسرا وہ جو نیک کام میں تیز گام ہو۔ (94- خیر کی تشریح) حکمت حکمت 94

حکمت (94) : آپ سے دریافت کیا گیا کہ نیکی کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ نیکی یہ نہیں کہ تمہارے مال و اولاد میں فراوانی ہو جائے۔ بلکہ خوبی یہ ہے کہ تمہارا علم زیادہ اور حلم بڑا ہو، اور تم اپنے پروردگار کی عبادت پر ناز کرسکو۔ اب اگر اچھا کام کرو تو اللہ کا شکر بجا لاؤ، اور اگر کسی برائی کا ارتکاب کرو تو توبہ و استغفار کرو، اور دنیا میں صرف دو شخصوں کے لیے بھلائی ہے۔ ایک وہ جو گناہ کرے تو توبہ سے اس کی تلافی کرے اور دوسرا وہ جو نیک کام میں تیز گام ہو۔ (94- خیر کی تشریح)

نیکی کا مفہوم علم اور حلم کی اہمیت ہے، نہ کہ مال و دولت کی فراوانی۔

مزید پڑھیے
حکمت (110) :  حکمِ خدا کا نفاذ وہی کر سکتا ہے جب (حق معاملہ میں) نرمی نہ برتے، عجز و کمزوری کا اظہار نہ کرے اور حرص و طمع کے پیچھے نہ لگ جائے۔ (110- حاکم کے اوصاف) حکمت حکمت 110

حکمت (110) : حکمِ خدا کا نفاذ وہی کر سکتا ہے جب (حق معاملہ میں) نرمی نہ برتے، عجز و کمزوری کا اظہار نہ کرے اور حرص و طمع کے پیچھے نہ لگ جائے۔ (110- حاکم کے اوصاف)

حکمِ خدا کا نفاذ وہی کر سکتا ہے جب حقِ معاملہ میں نرمی نہ برتے۔

مزید پڑھیے
حکمت (95) : جب عمل تقویٰ کے ساتھ انجام دیا جائے وہ تھوڑا نہیں سمجھا جا سکتا، اور مقبول ہونے والا عمل تھوڑا کیوں کر ہو سکتا ہے ؟ (95- معیار عمل) حکمت حکمت 95

حکمت (95) : جب عمل تقویٰ کے ساتھ انجام دیا جائے وہ تھوڑا نہیں سمجھا جا سکتا، اور مقبول ہونے والا عمل تھوڑا کیوں کر ہو سکتا ہے ؟ (95- معیار عمل)

جب عمل تقویٰ کے ساتھ انجام دیا جائے وہ تھوڑا نہیں سمجھا جا سکتا۔

مزید پڑھیے
حکمت (111) : سہل ابن حنیف انصاری حضرت کو سب لوگوں میں زیادہ عزیز تھے یہ جب آپ کے ہمراہ صفین سے پلٹ کر کوفہ پہنچے تو انتقال فرما گئے جس پر حضرت نے فرمایا۔ اگر پہاڑ بھی مجھے دوست رکھے گا تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔ (111- سہل ابن حنیف) حکمت حکمت 111

حکمت (111) : سہل ابن حنیف انصاری حضرت کو سب لوگوں میں زیادہ عزیز تھے یہ جب آپ کے ہمراہ صفین سے پلٹ کر کوفہ پہنچے تو انتقال فرما گئے جس پر حضرت نے فرمایا۔ اگر پہاڑ بھی مجھے دوست رکھے گا تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔ (111- سہل ابن حنیف)

سہل ابن حنیف انصاری حضرت کو سب لوگوں میں زیادہ عزیز تھے۔

مزید پڑھیے
حکمت (64) :  دُنیا والے ایسے سواروں کے مانند ہیں جب سو رہے ہیں اور سفر جاری ہے۔ (64- دنیا والوں کی غفلت) حکمت حکمت 64

حکمت (64) : دُنیا والے ایسے سواروں کے مانند ہیں جب سو رہے ہیں اور سفر جاری ہے۔ (64- دنیا والوں کی غفلت)

دنیا والے ایسے سواروں کے مانند ہیں جب سو رہے ہیں اور سفر جاری ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (80) : حکمتِ مومن ہی کی گمشدہ چیز ہے، اسے حاصل کرو، اگرچہ منافق سے لینا پڑے۔ (80- سرمایۂ حکمت) حکمت حکمت 80

حکمت (80) : حکمتِ مومن ہی کی گمشدہ چیز ہے، اسے حاصل کرو، اگرچہ منافق سے لینا پڑے۔ (80- سرمایۂ حکمت)

حکمتِ مومن ہی کی گمشدہ چیز ہے، اسے حاصل کرو، اگرچہ منافق سے لینا پڑے۔

مزید پڑھیے
حکمت (65) : دوستوں کو کھو دینا غریب الوطنی ہے۔ (65- دوستوں کو کھونا) حکمت حکمت 65

حکمت (65) : دوستوں کو کھو دینا غریب الوطنی ہے۔ (65- دوستوں کو کھونا)

دوستوں کو کھو دینا غریبُ الوطنی ہے۔

مزید پڑھیے