Hikmat
مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب
حکمت
حکمت 76
حکمت (76) : جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے تو آغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچان لینا چاہیے۔ (76- آغاز و انجام)
جب کسی کام میں اچھے برے کی پہچان نہ رہے تو آغاز کو دیکھ کر انجام کو پہچان لینا چاہیے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 61
حکمت (61) : عورت ایک ایسا بچھو ہے جس کے لپٹنے میں بھی مزہ آتا ہے۔ (61- عورت ایک بچھو ہے)
عورت ایک ایسا بچھو ہے جس کے لپٹنے میں بھی مزہ آتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 77
حکمت (77) : جب ضرار ابن ضمرۃ صنبائی معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ نے امیرالمومنین علیہ السّلام کے متعلق ان سے سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بعض موقعوں پر آپ کو دیکھا جب کہ رات اپنے دامن ظلمت کو پھیلا چکی تھی۔ تو آپ محراب عبادت میں استادہ ریش مبارک کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے مار گزیدہ کی طرح تڑپ رہے تھے اور غم رسیدہ کی طرح رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ اے دنیا! اے دنیا دور ہو مجھ سے۔ کیا میرے سامنے اپنے کو لاتی ہے؟ یا میری دلدادہ و فریفتہ بن کر آئی ہے؟ تیرا وہ وقت نہ آئے (کہ تو مجھے فریب دے سکے) بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے، جا کسی اور کو جل دے مجھے تیری خواہش نہیں ہے۔ میں تو تین بار تجھے طلاق دے چکا ہوں کہ جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں۔ تیری زندگی تھوڑی، تیری اہمیت بہت ہی کم اور تیری آرزو ذلیل و پست ہے۔ افسوس زادِ راہ تھوڑا، راستہ طویل، سفر دور دراز اور منزل سخت ہے۔ (77- ضرار کا بیان)
جب ضَرار ابن ضَمْرَۃ صُنْبَائی مُعَاوِیَہ کے پاس گئے اور امیرالمؤمنین علیہ السّلام کے متعلق سوال کیا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 62
حکمت (62) : جب تم پر سلام کیا جائے تو اس سے اچھے طریقے سے جواب دو۔ اور جب تم پر کوئی احسان کرے تو اس سے بڑھ چڑھ کر بدلہ دو، اگرچہ اس صورت میں بھی فضیلت پہل کرنے والے ہی کی ہوگی۔ (62- احسان کا بدلہ)
جب تم پر سلام کیا جائے تو اس سے اچھے طریقے سے جواب دو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 78
حکمت (78) : ایک شخص نے امیرالمومنین علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا ہمارا اہل شام سے لڑنے کے لیے جانا قضا و قدر سے تھا؟ تو آپ نے ایک طویل جواب دیا۔ جس کا ایک منتخب حصہ یہ ہے۔ خدا تم پر رحم کرے شاید تم نے حتمی و لازمی قضاء و قدر سمجھ لیا ہے (کہ جس کے انجام دینے پر ہم مجبور ہیں) اگر ایسا ہوتا تو پھر نہ ثواب کا کوئی سوال پیدا ہوتا نہ عذاب کا نہ وعدے کے کچھ معنی رہتے نہ وعید کے۔ خدا وند عالم نے تو بندوں کو خود مختار بنا کر مامور کیا ہے اور (عذاب سے) ڈراتے ہوئے نہی کی ہے۔ اُس نے سہل و آسان تکلیف دی ہے اور دشواریوں سے بچائے رکھا ہے۔ وہ تھوڑے کیے پر زیادہ اجر دیتا ہے۔ اس کی نافرمانی اس لیے نہیں ہوتی کہ وہ دب گیا ہے اور نہ اس کی اطاعت اس لیے کی جاتی ہے کہ اس نے مجبور کر رکھا ہے۔ اس نے پیغمبروں کو بطور تفریح نہیں بھیجا اور بندوں کے لیے کتابیں بے فائدہ نہیں اتاری ہیں اور نہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کو بیکار پیدا کیا ہے۔ یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے جنہوں نے کفر اختیار کیا آتش جہنم کے عذاب سے۔ اس روایت کا تتمہ یہ ہے پھر اس شخص نے کہا کہ وہ کون سی قضاء و قدر تھی جس کی وجہ سے ہمیں جانا پڑا؟ آپ نے کہا کہ قضا کے معنی حکم باری کے ہیں جیسا کہ ارشاد ہے۔ وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ اور تمہارے پروردگار نے تو حکم دے دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کرنا۔ یہاں پر قضی بمعنی امر کے ہے۔ (78- قضا و قدر)
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے قضا و قدر کے بارے میں اہم نکات بیان کیے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 63
حکمت (63) : سفارش کرنے والا امیدوار کے لیے بمنزلہ پردہ بال ہوتا ہے۔ (63- سفارش)
سفارش کرنے والا امیدوار کے لیے بمنزلہ پردہ بال ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 79
حکمت (79) : حکمت کی بات جہاں کہیں ہو، اسے حاصل کرو، کیونکہ حکمت منافق کے سینے میں بھی ہوتی ہے۔ لیکن جب تک اس (کی زبان) سے نکل کر مومن کے سینے میں پہنچ کر دوسری حکمتوں کے ساتھ بہل نہیں جاتی، تڑپتی رہتی ہے۔ (79- حکمت)
حکمت کی بات جہاں کہیں ہو، اسے حاصل کرو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 32
حکمت (32) : نیک کام کرنے والا خود اس کام سے بہتر اور برائی کا مرتکب ہونے والا خود اس برائی سے بدتر ہے۔ (32- نیکی و بدی)
نیک کام کرنے والا خود اس کام سے بہتر ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 48
حکمت (48) : کامیابی دور اندیشی سے وابستہ ہے اور دور اندیشی فکر و تدبر کو کام میں لانے سے اور تدبر بھیدوں کو چھپا کر رکھنے سے۔ (48- حزم و احتیاط)
کامیابی دُور اندیشی سے وابستہ ہے اور دُور اندیشی فِکر و تَدبُر کو کام میں لانے سے اور تَدبُر بھیدوں…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 33
حکمت (33) : سخاوت کرو، لیکن فضول خرچی نہ کرو اور جزا رسی کرو، مگر بخل نہیں۔ (33- میانہ روی)
سخاوت کرو، لیکن فضول خرچی نہ کرو اور جزا رسی کرو، مگر بخل نہیں۔
مزید پڑھیے
