Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

497 اندراجات
حکمت (123) : خوشا نصیب اس کے کہ جس نے اپنے مقام پر فروتنی اختیار کی جس کی کمائی پاک و پاکیزہ نیت نیک اور خصلت و عادت پسندیدہ رہی جس نے اپنی ضرورت سے بچا ہوا مال خدا کی راہ میں صرف کیا بے کار باتوں سے اپنی زبان کو روک لیا، مردم آزادی سے کنارہ کش رہا، سنت اسے ناگوار نہ ہوئی اور بدعت کی طرف منسوب نہ ہوا۔ (123- چند صفات) حکمت حکمت 123

حکمت (123) : خوشا نصیب اس کے کہ جس نے اپنے مقام پر فروتنی اختیار کی جس کی کمائی پاک و پاکیزہ نیت نیک اور خصلت و عادت پسندیدہ رہی جس نے اپنی ضرورت سے بچا ہوا مال خدا کی راہ میں صرف کیا بے کار باتوں سے اپنی زبان کو روک لیا، مردم آزادی سے کنارہ کش رہا، سنت اسے ناگوار نہ ہوئی اور بدعت کی طرف منسوب نہ ہوا۔ (123- چند صفات)

خوشا نصیب اس کے کہ جب جس نے اپنے مقام پر فروتنی اختیار کی۔

مزید پڑھیے
حکمت (139) : جب جتنا خرچ ہو۔ اتنی ہی امداد ملتی ہے۔ (139- رزق و روزی) حکمت حکمت 139

حکمت (139) : جب جتنا خرچ ہو۔ اتنی ہی امداد ملتی ہے۔ (139- رزق و روزی)

جتنا خرچ ہو، اتنی ہی امداد ملتی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (124) :  عورت کا غَیرَت کَرنا کُفْر ہے، اور مَرد کا غَیُور ہونا اِیمان ہے۔ (124- غیرت) حکمت حکمت 124

حکمت (124) : عورت کا غَیرَت کَرنا کُفْر ہے، اور مَرد کا غَیُور ہونا اِیمان ہے۔ (124- غیرت)

عورت کا غَیرَت کَرنا کُفر ہے، اور مَرد کا غَیُور ہونا اِیمان ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (140) : جب میانہ روی اختیار کرتا ہے وہ محتاج نہیں ہوتا۔ (140- کفایت شعاری) حکمت حکمت 140

حکمت (140) : جب میانہ روی اختیار کرتا ہے وہ محتاج نہیں ہوتا۔ (140- کفایت شعاری)

جب میانہ روی اختیار کرتا ہے وہ محتاج نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیے
حکمت (125) :  میں اسلام کی ایسی صحیح تعریف بیان کرتا ہوں جب مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی۔ اسلام سر تسلیم خم کرنا ہے اور سر تسلیم جھکانا یقین ہے اور یقین تصدیق ہے اور تصدیق اعتراف فرض کی بجا آوری ہے اور فرض کی بجا آوری عمل ہے۔ (125- حقیقی اسلام) حکمت حکمت 125

حکمت (125) : میں اسلام کی ایسی صحیح تعریف بیان کرتا ہوں جب مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی۔ اسلام سر تسلیم خم کرنا ہے اور سر تسلیم جھکانا یقین ہے اور یقین تصدیق ہے اور تصدیق اعتراف فرض کی بجا آوری ہے اور فرض کی بجا آوری عمل ہے۔ (125- حقیقی اسلام)

میں اسلام کی ایسی صحیح تعریف بیان کر تا ہوں جب مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی۔

مزید پڑھیے
حکمت (126) :  مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جس فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے، اس کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور جس ثروت و خوش حالی کا طالب ہوتا ہے وہی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ وہ دنیا میں فقیروں کی سی زندگی بسر کرتا ہے اور آخرت میں دولت مندوں کا سا اس سے محاسبہ ہو گا، اور مجھے تعجب ہوتا ہے۔ متکبر و مغرور پر کہ جس کل ایک نطفہ تھا، اور کل کو مردار ہو گا۔ اور مجھے تعجب ہے اس پر جو اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات کو دیکھتا ہے اور پھر اس کے وجود میں شک کرتا ہے، اور تعجب ہے اس پر جو مرنے والوں کو دیکھتا ہے اور پھر موت کو بھولے ہوئے ہے۔ اور تعجب ہے اس پر کہ جو پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھائے جانے سے انکار کرتا ہے، اور تعجب ہے اس پر جو سرائے فانی کو آباد کرتا ہے اور منزل جاودانی کو چھوڑ دیتا ہے۔ (126- تعجب انگیز چیزیں) حکمت حکمت 126

حکمت (126) : مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جس فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے، اس کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے اور جس ثروت و خوش حالی کا طالب ہوتا ہے وہی اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ وہ دنیا میں فقیروں کی سی زندگی بسر کرتا ہے اور آخرت میں دولت مندوں کا سا اس سے محاسبہ ہو گا، اور مجھے تعجب ہوتا ہے۔ متکبر و مغرور پر کہ جس کل ایک نطفہ تھا، اور کل کو مردار ہو گا۔ اور مجھے تعجب ہے اس پر جو اللہ کی پیدا کی ہوئی کائنات کو دیکھتا ہے اور پھر اس کے وجود میں شک کرتا ہے، اور تعجب ہے اس پر جو مرنے والوں کو دیکھتا ہے اور پھر موت کو بھولے ہوئے ہے۔ اور تعجب ہے اس پر کہ جو پہلی پیدائش کو دیکھتا ہے اور پھر دوبارہ اٹھائے جانے سے انکار کرتا ہے، اور تعجب ہے اس پر جو سرائے فانی کو آباد کرتا ہے اور منزل جاودانی کو چھوڑ دیتا ہے۔ (126- تعجب انگیز چیزیں)

مجھے تعجب ہوتا ہے بخیل پر کہ وہ جب فقرو ناداری سے بھاگنا چاہتا ہے، اس کی طرف تیزی سے…

مزید پڑھیے
حکمت (127) : جب عمل میں کوتاہی کرتا ہے، وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے اور جس کے مال و جان میں اللہ کا کچھ حصہ نہ ہو، اللہ کو ایسے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (127- کوتاہی اعمال کا نتیجہ) حکمت حکمت 127

حکمت (127) : جب عمل میں کوتاہی کرتا ہے، وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے اور جس کے مال و جان میں اللہ کا کچھ حصہ نہ ہو، اللہ کو ایسے کی کوئی ضرورت نہیں۔ (127- کوتاہی اعمال کا نتیجہ)

جب عمل میں کوتاہی کرتا ہے، وہ رنج و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (96) : انبیاء سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ان کی لائی ہوئی چیزوں کا زیادہ علم رکھتے ہوں (پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی) ابراہیم سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کی تھی جو ان کے فرمانبردار تھے۔ اور اب اس نبی اور ایمان لانے والوں کو خصوصیت ہے۔ (پھر فرمایا) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دوست وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے اگرچہ ان سے کوئی قرابت نہ رکھتا ہو، اور ان کا دشمن وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے، اگرچہ نزدیکی قرابت رکھتا ہو۔ (96- معیار تقرب) حکمت حکمت 96

حکمت (96) : انبیاء سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ان کی لائی ہوئی چیزوں کا زیادہ علم رکھتے ہوں (پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی) ابراہیم سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کی تھی جو ان کے فرمانبردار تھے۔ اور اب اس نبی اور ایمان لانے والوں کو خصوصیت ہے۔ (پھر فرمایا) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دوست وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے اگرچہ ان سے کوئی قرابت نہ رکھتا ہو، اور ان کا دشمن وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے، اگرچہ نزدیکی قرابت رکھتا ہو۔ (96- معیار تقرب)

انبیاء سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جب ان کی لائی ہوئی چیزوں کا زیادہ علم رکھتے…

مزید پڑھیے
حکمت (112) : جب ہم اہل بیت سے محبت کرے اسے جامہ فقر پہننے کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔ (112- محبت اہل بیتؑ) حکمت حکمت 112

حکمت (112) : جب ہم اہل بیت سے محبت کرے اسے جامہ فقر پہننے کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔ (112- محبت اہل بیتؑ)

جب ہم اہل بیت سے محبت کرے اسے جامہ فقر پہننے کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔

مزید پڑھیے
حکمت (81) : ہر شَخص کی قِیمت وہ ہُنر ہے، جب اس شَخص میں ہے۔ (81- ہنر کی قدر و قیمت) حکمت حکمت 81

حکمت (81) : ہر شَخص کی قِیمت وہ ہُنر ہے، جب اس شَخص میں ہے۔ (81- ہنر کی قدر و قیمت)

ہر شَخص کی قِیمت وہ ہنر ہے، جب اس شَخص میں ہے۔

مزید پڑھیے