Hikmat
مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب
حکمت
حکمت 156
حکمت (156) : تم پر اطاعت بھی لازم ہے ان کی جن سے ناواقف رہنے کی بھی تمہیں معافی نہیں۔ (156- معرفتِ امام)
تم پر اطاعت بھی لازم ہے ان کی جن سے ناواقف رہنے کی بھی تمہیں معافی نہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 141
حکمت (141) : متعلقین کی کمی دو قسموں میں سے ایک قسم کی آسودگی ہے۔ (141- راحت و آسودگی)
متعلقین کی کمی دو قسموں میں سے ایک قسم کی آسودگی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 157
حکمت (157) : اگر تم دیکھو، تو تمہیں دکھایا جا چکا ہے اور اگر تم ہدایت حاصل کرو تو تمہیں ہدایت کی جاچکی ہے اور اگر سننا چاہو تو تمہیں سنایا جا چکا ہے۔ (157- پند و نصیحت)
اگر تم دیکھو، تو تمہیں دکھایا جا چکا ہے اور اگر تم ہدایت حاصل کرو تو تمہیں ہدایت کی جاچکی…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 142
حکمت (142) : میلِ محبت پیدا کرنا عقل کا نصف حصہ ہے۔ (142- میل ملاقات)
میلِ محبت پیدا کرنا عقل کا نصف حصہ ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 158
حکمت (158) : اپنے بھائی کو شرمندہ احسان بنا کر سر زنش کرو اور لطف و کرم کے ذریعہ سے اس کے شر کو دور کرو۔ (158- بُرائی کا بدلہ بھلائی)
اپنے بھائی کو شرمندہ احسان بنا کر سر زنش کرو اور لطف و کرم کے ذریعہ سے اس کے شر…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 143
حکمت (143) : غم آدھا بڑھاپا ہے۔ (143- غم)
غم آدھا بُڑھاپا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 159
حکمت (159) : جو شخص بدنامی کی جگہوں پر اپنے کو لے جائے تو پھر اسے برا نہ کہے جو اس سے بد ظن ہو۔ (159- مواقع تہمت)
جو شخص بدنامی کی جگہوں پر اپنے کو لے جائے تو پھر اسے برا نہ کہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 128
حکمت (128) : شروع سردی میں سردی سے احتیاط کرو اور آخر میں اس کا خیر مقدم کرو، کیونکہ سردی جسموں میں وہی کرتی ہے، جب وہ درختوں میں کرتی ہے کہ ابتدائی میں درختوں کو جھلس دیتی ہے، اور انتہا میں سرسبز و شاداب کرتی ہے۔ (128- بہار و خزاں میں احتیاط)
شُروعِ سَردی میں سَردی سے اِحتیاط کرو اور آخِر میں اس کا خیر مَقدَم کرو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 129
حکمت (129) : اَللّٰہ کی عَظَمَت کا اَحساس تُمہاری نَظروں میں کائنات کو حَقیر و پَست کردے۔ (129- عظمتِ خالق)
اللہ کی عَظَمَت کا اَحساس تُمہاری نَظروں میں کائنات کو حَقیر و پَست کردے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 130
حکمت (130) : صفین سے پلٹتے ہوئے کوفہ سے باہر قبرستان پر نظر پڑی تو فرمایا اے وحشت افزا گھروں، اجڑے مکانوں اور اندھیری قبروں کے رہنے والو! اے خاک نشینو! اے عالم غربت کے ساکنوں، اے تنہائی اور الجھن میں بسر کرنے والو! تم تیز رو ہو جب ہم سے آگے بڑھ گئے ہو اور ہم تمہارے نقش قدم پر چل کر تم سے ملا چاہتے ہیں۔ اب صورت یہ ہے کہ گھروں میں دوسرے بس گئے ہیں، بیویوں سے اوروں نے نکاح کر لیے ہیں اور تمہارا مال و اسباب تقسیم ہو چکا ہے، یہ تو ہمارے یہاں کی خبر ہے۔ اب تمہارے یہاں کی کیا خبر ہے۔ (پھر حضرت اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا) اگر انہیں بات کرنے کی اجازت دی جائے تو یہ تمہیں بتائیں گے کہ بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔ (130- مرنے والوں سے خطاب)
صَفّین سے پلَٹتے ہوئے کُوفہ سے باہَر قَبرِستان پر نَظَر پَڑی تو فَرمایا...
مزید پڑھیے
