Hikmat
مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب
حکمت
حکمت 146
حکمت (146) : صدقہ سے اپنے ایمان کی نگہداشت کرو، اور دعا سے مصیبت و ابتلاء کی لہروں کو دور کرو۔ (146- صدقہ و زکوٰۃ)
صَدَقَہ سے اپنے اِیمَان کی نِگَہداشت کرو، اور دُعَا سے مَصِیبت و اَبتِلاء کی لَہروں کو دُور کرو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 147
حکمت (147) : کمیل ابن زیاد نخعی کہتے ہیں کہ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور قبر ستان کی طرف لے چلے جب آبادی سے باہر نکلے تو ایک لمبی آہ کی۔ پھر فرمایا اے کمیل ! یہ دل اسرار و حکم کے ظروف ہیں ان میں سب سے بہتر وہ ہے جو زیادہ نگہداشت کرنے والا ہو۔ لہٰذا تو جب میں تمہیں بتاؤں اسے یاد رکھنا۔ دیکھو! تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک عالم ربانی دوسرا متعلم کہ جو نجات کی راہ پر برقرار رہے اور تیسرا عوام الناس کا وہ پست گروہ ہے کہ جو ہر پکارنے والے کے پیچھے ہو لیتا ہے اور ہر ہوا کے رخ پر مڑ جاتا ہے۔ نہ انہوں نے نور علم سے کسب ضیا کیا، نہ کسی مضبوط سہارے کی پناہ لی۔ اے کمیل ! یاد رکھو، کہ علم مال سے بہتر ہے (کیونکہ) علم تمہاری نگہداشت کرتا ہے اور مال کی تمہیں حفاظت کرنا پڑتی ہے اور مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے لیکن علم صرف کرنے سے بڑھتا ہے، اور مال و دولت کے نتائج و اثرات مال کے فنا ہونے سے فنا ہو جاتے ہیں۔ اے کمیل ! علم کی شناسائی ایک دین ہے کہ جس کی اقتدا کی جاتی ہے اسی سے انسان اپنی زندگی میں دوسروں سے اپنی اطاعت منواتا ہے اور مرنے کے بعد نیک نامی حاصل کرتا ہے۔ یاد رکھو کہ علم حاکم ہوتا ہے اور مال محکوم۔ اے کمیل ! مال اکٹھا کرنے والے زندہ ہونے کے باوجود مردہ ہوتے ہیں اور علم حاصل کرنے والے رہتی دنیا تک باقی رہتے ہیں، بے شک ان کے اجسام نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ مگر ان کی صورتیں دلوں میں موجود رہتی ہیں (اس کے بعد حضرت نے اپنے سینہ اقدس کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا) دیکھو! یہاں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے کاش اس کے اٹھانے والے مجھے مل جاتے، ہاں ملا، کوئی تو، یا ایسا جو ذہین تو ہے مگر ناقابل اطمینان ہے اور جو دنیا کے لیے دین کو آلہ کار بنانے والا ہے اور اللہ کی ان نعمتوں کی وجہ سے اس کے بندوں پر اور اس کی حجتوں کی وجہ سے اس کے دوستوں پر تفوق و برتری جتلانے والا ہے۔ یا جو ارباب حق و دانش کا مطیع تو ہے مگر اس کے دل کے گوشوں میں بصیرت کی روشنی نہیں ہے، بس ادھر ذرا سا شبہہ عارض ہوا کہ اس کے دل میں شکوک و شبہات کی چنگاریاں بھڑکنے لگیں تو معلوم ہونا چاہیے کہ نہ یہ اس قابل ہے اور نہ وہ اس قابل ہے یا ایسا شخص ملتا ہے کہ جو لذتوں پر مٹا ہوا ہے اور بآسانی خواہش نفسانی کی راہ پر کھنچ جانے والا ہے یا ایسا شخص جو جمع آوری و ذخیرہ اندوزی پر جان دیئے ہوئے ہے یہ دونوں بھی دین کے کسی امر کی رعایت و پاسداری کرنے والے نہیں ہیں ان دونوں سے انتہائی قریبی شباہت چرنے والے چوپائے رکھتے ہیں۔ اسی طرح تو علم کے خزینہ داروں کے مرنے سے علم ختم ہو جاتا ہے ہاں! مگر زمین ایسے فرد خالی نہیں رہتی کہ جو خدا کی حجت کو برقرار رکھتا ہے چاہے وہ ظاہر و مشہور ہوا یا خائف و پنہاں تاکہ اللہ کی دلیلیں اور نشان مٹنے نہ پائیں اور وہ ہیں ہی کتنے اور کہاں پر ہیں -؟ خدا کی قسم وہ تو گنتی میں بہت تھوڑے ہوتے ہیں، اور اللہ کے نزدیک قدر و منزلت کے لحاظ سے بہت بلند۔ خداوند عالم ان کے ذریعہ سے اپنی حجتوں اور نشانیوں کی حفاظت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ان کو اپنے ایسوں کے سپرد کر دیں اور اپنے ایسوں کے دلوں میں انہیں بو دیں۔ علم نے انہیں ایک دم حقیقت و بصیرت کے انکشافات تک پہنچا دیا ہے۔ وہ یقین و اعتماد کی روح سے گھل مل گئے ہیں اور ان چیزوں کو جنہیں آرام پسند لوگوں نے دشوار قرار دے رکھا تھا اپنے لیے سہل و آسان سمجھ لیا ہے اور جن چیزوں سے جاہل بھڑک اٹھتے ہیں ان سے وہ جی لگائے بیٹھے ہیں۔ وہ ایسے جسموں کے ساتھ دنیا میں رہتے سہتے ہیں کہ جن کی روحیں ملائ اعلیٰ سے وابستہ ہیں یہی لوگ تو زمین میں اللہ کے نائب اور اس کے دین کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ ہائے ان کی دید کے لیے میرے شوق کی فراوانی (پھر حضرت نے کمیل سے فرمایا) اے کمیل !(مجھے جو کچھ کہنا تھا کہہ چکا) اب جس وقت چاہو واپس جاؤ۔ کمیل ابن زیاد نخعی رحمۃ اللہ اسرار امامت کے خزینہ دار اور امیرالمومنین کے خواص اصحاب میں سے تھے، علم و فضل میں بلند مرتبہ اور زہد و درع میں امتیاز خاص کے حامل تھے۔ حضرت کی طرف سے کچھ عرصہ تک ہیئت کے عامل رہے 38 ہج میں 09 برس کی عمر میں حجاج ابن یوسف ثقفی کے ہاتھ سے شہید ہوئے اور بیرون کوفہ دفن ہوئے۔ (147- فضیلتِ علم)
کمیل ابن زیاد نَخَعِی کہتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور قبرستان…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 148
حکمت (148) : اِنسان اپنی زَبان کے نیچے چھپا ہوا ہے۔ (148- تا مرد سخن نگفتہ باشد)
انسان اپنی زَبان کے نیچے چھپا ہوا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 149
حکمت (149) : جب شخص اپنی قدر و منزلت کو نہیں پہچانتا وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ (149- قدر نا شناسی)
جب شخص اپنی قدر و منزلت کو نہیں پہچانتا وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 150
حکمت (150) : ایک شخص نے آپ سے پند و موعظت کی درخواست کی ،تو فرمایا!تم کوان لوگوں میں سے نہ ہونا چاہیے کہ جب عمل کے بغیر حسن انجام کی امید رکھتے ہیں اور امیدیں بڑھا کر تو بہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں جب دنیا کے بارے میں زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے اعمال دنیا طلبوں کے سے ہوتے ہیں۔اگر دنیا انہیں ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو قناعت نہیں کرتے جب انہیں ملا ہے اس پر شکر سے قاصر رہتے ہیں اور جب بچ رہا اس کے اضافہ کے خواہشمند رہتے ہیں دوسروں کو منع کرتے ہیں اور خود باز نہیں آتے اور دوسروں کو حکم دیتے ہیں ایسی باتوں کا جنہیں خود بجا نہیں لاتے نیکوں کو دوست رکھتے ہیں مگر ان کے سے اعمال نہیں کرتے اور گنہگاروں سے نفرت و عناد رکھتے ہیں حالانکہ وہ خود انہی میں داخل ہیں اپنے گناہوں کی کثرت کے باعث موت کو برا سمجھتے ہیں مگر جن گناہوں کی وجہ سے موت کو ناپسند کرتے ہیں انہی پر قائم ہیں۔اگر بیمار پڑتے ہیں تو پشیمان ہوتے ہیں۔ جب بیماری سے چھٹکارا پاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں۔اور مبتلا ہوتے ہیں تو ان پر مایوسی چھا جاتی ہے۔جب کسی سختی و ابتلا میں پڑتے ہیں تو لاچار و بے بس ہو کر دعائیں مانگتے ہیں اور جب فراخ دستی نصیب ہوتی ہے تو فریب میں مبتلا ہو کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ان کا نفس خیالی باتوں پر انہیں قابو میں لے آتا ہے اور وہ یقینی باتوں پر اسے نہیں دبا لیتے۔دوسروں کے لیے گناہ سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اپنے لیے اپنے اعمال سے زیادہ جزا کے متوقع رہتے ہیں۔اگر مالدار ہو جاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں اور اگر فقیر ہو جاتے ہیں تو ناامید ہو جاتے ہیں اور سستی کرنے لگتے ہیں۔جب عمل کرتے ہیں تو اس میں سستی کرتے ہیں اور جب مانگنے پر آتے ہیں تو اصرار میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔اگر ان پر خواہش نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے تو گناہ جلد سے جلد کرتے ہیں ،اور توبہ کو تعویق میں ڈالتے رہتے ہیں ،اگر کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو جماعت اسلامی کے خصوصی امتیازات سے الگ ہو جاتے ہیں۔عبرت کے واقعات بیان کرتے ہیں مگر خود عبرت حاصل نہیں کرتے اور وعظ و نصیحت میں زور باندھتے ہیں مگر خود اس نصیحت کا اثر نہیں لیتے چنانچہ وہ بات کرنے میں تو اونچے رہتے ہیں۔مگر عمل میں کم ہی کم رہتے ہیں۔فانی چیزوں میں نفسی نفسی کرتے ہیں اور باقی رہنے والی چیزوں میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں وہ نفع کو نقصان اور نقصان کو نفع خیال کرتے ہیں۔موت سے ڈرتے ہیں۔مگر فرصت کا موقع نکل جانے سے پہلے اعمال میں جلدی نہیں کرتے۔دوسرے کے ایسے گناہ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں جس سے بڑے گناہ کو خود اپنے لیے چھوٹا خیال کرتے ہیں۔اور اپنی ایسی اطاعت کو زیادہ سمجھتے ہیں جسے دوسرے سے کم سمجھتے ہیں۔لہٰذا وہ لوگوں پر معترض ہوتے ہیں اور اپنے نفس کی چکنی چپڑی باتوں سے تعریف کرتے ہیں۔دولتمندوں کے ساتھ طرب و نشاط میں مشغول رہنا انہیں غریبوں کے ساتھ محفل ذکر میں شرکت سے زیادہ پسند ہے اپنے حق میں دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگاتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں کرتے کہ دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگائیں۔اوروں کو ہدایت کرتے ہیں اور اپنے کو گمراہی کی راہ پر لگا تے ہیں وہ اطاعت لیتے ہیں اور خود نافرمانی کرتے ہیں اور حق پورا پورا وصول کر لیتے ہیں مگر خود انہیں کرتے۔وہ اپنے پروردگار کو نظر انداز کر کے مخلوق سے خوف کھاتے ہیں اور مخلوقات کے بارے میں اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتے۔ (150- پندو موعظت)
ایک شَخص نے آپ سے پند و موعظَت کی درخواست کی، تو فرمایا!
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 151
حکمت (151) : ہر شخص کا ایک انجام ہے۔ اب خواہ وہ شیریں ہو یا تلخ۔ (151- انجام)
ہر شخص کا ایک انجام ہے۔ اب خواہ وہ شیریں ہو یا تلخ۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 152
حکمت (152) : ہر آنے والے کے لیے پلٹنا ہے اور جب پلٹ گیا تو جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ (152- نیستی و بربادی)
ہر آنے والے کے لیے پلٹنا ہے اور جب پلٹ گیا تو جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 153
حکمت (153) : صبر کرنے والا ظفر و کامرانی سے محروم نہیں ہوتا، چاہے اس میں طویل زمانہ لگ جائے۔ (153- صبر و شکیبائی)
صبر کرنے والا ظفر و کامرانی سے محروم نہیں ہوتا، چاہے اس میں طویل زمانہ لگ جائے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 154
حکمت (154) : کسی جماعت کے فعل پر رضا مند ہونے والا ایسا ہے جیسے اس کے کام میں شریک ہو۔ اور غلط کام میں شریک ہو نے والے پر دو گناہ ہیں۔ ایک اس پر عمل کرنے کا اور ایک اس پر رضا مند ہونے کا۔ (154- عمل اور اس پر رضا مندی)
کسی جماعت کے فعل پر رضا مند ہونے والا ایسا ہے جیسے اس کے کام میں شریک ہو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 155
حکمت (155) : عہد و پیمان کی ذمہ داریوں کو ان سے وابستہ کرو جو میخوں کے ایسے (مضبوط) ہوں۔ (155- عہد و پیمان)
عہد و پیمان کی ذمہ داریوں کو ان سے وابستہ کرو جو میخوں کے ایسے مضبوط ہوں۔
مزید پڑھیے
