Hikmat
مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب
حکمت
حکمت 432
حکمت (432) : دوستان خدا وہ ہیں کہ جب لوگ دنیا کے ظاہر کو دیکھتے ہیں تو وہ اس کے باطن پر نظر کرتے ہیں اور جب لوگ اس کی جلد میسر آ جانے والی نعمتوں میں کھو جاتے ہیں، تو وہ آخرت میں حاصل ہونے چیزوں میں منہمک رہتے ہیں اور جن چیزوں کے متعلق انہیں یہ کھٹکا تھا کہ وہ انہیں تباہ کریں گی، انہیں تباہ کر کے رکھ دیا اور جن چیزوں کے متعلق انہوں نے جان لیا کہ وہ انہیں چھوڑ دینے والی ہیں انہیں انہوں نے خود چھوڑ دیا اور دوسروں کے دنیا زیادہ سمیٹنے کو کم خیال کیا، اور اسے حاصل کرنے کو کھو نے کے برابر جانا۔ وہ ان چیزوں کے دشمن ہیں جن سے دوسروں کی دوستی ہے اور ان چیزوں کے دوست ہیں جن سے اوروں کو دشمنی ہے ان کے ذریعہ سے قرآن کا علم حاصل ہوا قرآن کے ذریعہ سےان کا علم ہوا اور ان کے ذریعہ سے کتاب خدا محفوظ اور وہ اس کے ذریعہ سے برقرار رہیں۔ وہ جس چیز کی امید رکھتے ہیں اس سے کسی چیز کو بلند نہیں سمجھتے اور جس چیز سے خائف ہیں اس سے زیادہ کسی شے کو خوفناک نہیں جانتے۔ (432- دوستانِ خدا)
دوستان خدا وہ ہیں جو دنیا کی ظاہری نعمتوں سے بے نیاز ہو کر آخرت کی نعمتوں کی طلب میں…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 433
حکمت (433) : لذتوں کے ختم ہونے اور پاداشوں کے باقی رہنے کو یاد رکھو۔ (433- موت کی یاد)
لذتوں کے ختم ہونے اور پاداشوں کے باقی رہنے کو یاد رکھو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 418
حکمت (418) : حلم و تحمل ایک پورا قبیلہ ہے۔ (418- حلم و بُردباری)
حلم و تحمل ایک پورا قبیلہ ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 434
حکمت (434) : آز ماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے اس فقرے کی جناب رسالت مآب سے روایت کی ہے، مگر اس کے کلام امیرالمومنین علیہ السّلام ہونے کے مویدات میں سے ہے وہ جسے ثعلب نے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن اعرابی نے بیان کیا کہ ماموں نے کہا کہ اگر حضرت علی علیہ السلام نے یہ نہ کہا ہوتا کہ »آزماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو «۔تو میں یوں کہتا کہ دشمنی کرواس سے تاکہ آزماؤ۔ (434- آزمائش)
آز ماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 419
حکمت (419) : بیچارہ آدمی کتنا بے بس ہے موت اس سے نہاں ،بیماریاں اس سے پوشیدہ اور اس کے اعمال محفوظ ہیں۔مچھر کے کاٹنے سے چیخ اٹھتا ہے ،اچھو لگنے سے مر جاتا ہے اور پسینہ اس میں بدبو پیدا کر دیتا ہے۔ (419- بے بسی)
بیچارہ آدمی کتنا بے بس ہے موت اس سے نہاں ،بیماریاں اس سے پوشیدہ اور اس کے اعمال محفوظ ہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 435
حکمت (435) : ایسا نہیں کہ اللہ کسی بندے کے لیے شکر کا دروازہ کھولے اور (نعمتوں کی) افزائش کا دروازہ بند کر دے اور کسی بندے کے لیے دعا کا دروازہ کھولے اور در قبولیت کو اس کے لیے بند رکھے اور کسی بندے کے لیے تو بہ کا دروازہ کھولے اور مغفرت کا دروازہ اس کے لیے بند کر دے۔ (435- شکر، دُعا اور توبہ)
ایسا نہیں کہ اللہ کسی بندے کے لیے شکر کا دروازہ کھولے اور (نعمتوں کی) افزائش کا دروازہ بند کر…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 420
حکمت (420) : وارد ہوا ہے کہ حضرت اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ،کہ ان کے سامنے سے ایک حسین عورت کا گزر ہوا جسے انہوں نے دیکھنا شروع کیا جس پر حضرت نے فرمایا ان مردوں کی آنکھیں تاکنے والی ہیں اور یہ نظر باز ی ان کی خواہشات کو برانگیختہ کرنے کاسبب ہے لہٰذا تم میں سے کسی کی نظر ایسی عورت پر پڑے کہ جو اسے اچھی معلوم ہو تو اسے اپنی زوجہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ عورت بھی اس عورت کے مانند ہے۔یہ سن کر ایک خارجی نے کہا کہ خدااس کافر کو قتل کر ے یہ کتنا برا فقیہ ہے۔یہ سن کر لوگ اسے قتل کرنے اٹھے۔حضرت نے فرمایا کہ ٹھہرو !زیادہ سے زیادہ گالی کا بدلہ گالی ہوسکتا ہے ،یااس کے گناہ ہی سے درگزر کرو۔ (420- بے باک نگاہیں)
وارد ہوا ہے کہ حضرت اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے سامنے سے ایک حسین عورت…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 436
حکمت (436) : لوگوں میں سب سے زیادہ کرم و بخشش کا وہ اہل ہے جس کا رشتہ اشراف سے ملتا ہو۔ (436- رگِ شرافت)
لوگوں میں سب سے زیادہ کرم و بخشش کا وہ اہل ہے جس کا رشتہ اشراف سے ملتا ہو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 421
حکمت (421) : اتنی عقل تمہارے لیے کافی ہے کہ جو گمراہی کی راہوں کو ہدایت کے راستوں سے الگ کر کے تمہیں دکھا دے۔ (421- عقل کی رہبری)
اتنی عقل تمہارے لیے کافی ہے کہ جو گمراہی کی راہوں کو ہدایت کے راستوں سے الگ کر کے تمہیں…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 437
حکمت (437) : آپ سے دریافت کیا گیا کہ عدل بہتر ہے یا سخاوت؟ فرمایا عدل تمام امور کو ان کے موقع و محل پر رکھتا ہے، اور سخاوت ان کو ان کی حدوں سے باہر کر دیتی ہے عدل سب کی نگہداشت کر تا ہے، اور سخاوت اسی سے مخصوص ہو گی۔ جسے دیا جائے۔ لہٰذا عدل سخاوت سے بہتر و برتر ہے۔ (437- عدل و جود)
عدل تمام امور کو ان کے موقع و محل پر رکھتا ہے، اور سخاوت ان کو ان کی حدوں سے…
مزید پڑھیے
