Hikmat
مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب
حکمت
حکمت 382
حکمت (382) : جو نہیں جانتے اسے نہ کہو، بلکہ جو جانتے ہو، وہ بھی سب کاسب نہ کہو۔ کیونکہ اللہ سبحانہ نے تمہارے تمام اعضا پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں جن کے ذریعہ قیامت کے دن تم پر حجت لائے گا۔ (382- سکوت)
جو نہیں جانتے اسے نہ کہو، بلکہ جو جانتے ہو، وہ بھی سب کاسب نہ کہو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 398
حکمت (398) : فخر و سر بلندی کو چھوڑ دو ،تکبر و غرور کو مٹاؤ اور قبر کو یاد رکھو۔ (398- فخر و سربلندی)
فخر و سر بلندی کو چھوڑ دو ،تکبر و غرور کو مٹاؤ اور قبر کو یاد رکھو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 414
حکمت (414) : ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اشعث ابن قیس کو تعزیت دیتے ہوئے فرمایا :اگر بزرگوں کی طرح تم نے صبر کیا تو خیر !ورنہ چوپاؤں کی طرح ایک دن بھول جاؤ گے۔ (414- تعزیت)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اشعث ابن قیس کو تعزیت دیتے ہوئے فرمایا: اگر بزرگوں کی طرح…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 383
حکمت (383) : اس بات سے ڈرتے رہو کہ اللہ تمہیں اپنی معصیت کے وقت موجود اور اپنی اطاعت کے وقت غیر حاضر پائے تو تمہارا شمار گھاٹا اٹھانے والوں میں ہو گا۔جب قوی و دانا ثابت ہونا ہو تو اللہ کی اطاعت پر اپنی قوت دکھاؤ اور کمزور بننا ہو تواس کی معصیت سے کمزوری دکھاؤ۔ (383- معصیت)
اللہ کی معصیت کے وقت غیر حاضر نہ ہونے کا خوف رکھو، قوت اطاعت میں دکھاؤ۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 399
حکمت (399) : ایک حق فرزند کا باپ پر ہوتا ہے اور ایک حق باپ کا فرزند پر ہوتا ہے۔باپ کا فرزند پر یہ حق ہے کہ وہ سوائے اللہ کی معصیت کے ہر بات میں اس کی اطاعت کرے اور فرزند کا باپ پر یہ حق ہے کہ اس کا نام اچھا تجویز کرے ،اچھے اخلاق و آداب سے آراستہ کرے اور قرآن کی اسے تعلیم دے۔ (399- فرزند و پدر کے حقوق)
ایک حق فرزند کا باپ پر ہوتا ہے اور ایک حق باپ کا فرزند پر ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 415
حکمت (415) : دنیا کے متعلق فرمایا دنیا دھوکے باز ،نقصان رساں اور رواں دواں ہے۔اللہ نے اپنے دوستوں کے لیے اسے بطور ثواب پسند نہیں کیا ،اور نہ دشمنوں کے لیے اسے بطور سزا پسند کیا۔اہل دنیا سواروں کے مانند ہیں کہ ابھی انہوں نے منزل کی ہی تھی کہ ہنکانے والے نے انہیں للکارا ،اور چل دیئے۔ (415- دنیا کی حالت)
دنیا دھوکے باز ،نقصان رساں اور رواں دواں ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 384
حکمت (384) : دنیا کی حالت دیکھتے ہوئے اس کی طرف جھکنا جہالت ہے اور حسن عمل کے ثواب کا یقین رکھتے ہوئے اس میں کوتاہی کرنا گھاٹا اٹھانا ہے۔ اور پرکھے بغیر ہر ایک پر بھروسا کر لینا عجز و کمزور ی ہے۔ (384- محل اعتماد)
دنیا کی حالت دیکھتے ہوئے اس کی طرف جھکنا جہالت ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 400
حکمت (400) : چشم بد ،افسوس ،سحر اور فال نیک ان سب میں واقعیت ہے۔البتہ فال بد اور ایک بیماری کا دوسرے کو لگ جانا غلط ہے۔ خوشبو سونگھنا ،شہد کھانا،سواری کرنا اور سبزے پر نظر کرنا غم و اندوہ اور قلق و اضطراب کو دور کرتا ہے۔ (400- با اثر اور بے اثر)
چشم بد ،افسوس ،سحر اور فال نیک ان سب میں واقعیت ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 416
حکمت (416) : اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا :اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و۔اس لیے کہ تم دو میں سے ایک کے لیے چھوڑ و گے۔ایک وہ جو اس مال کو خدا کی اطاعت میں صرف کرے گا تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب بنا وہ اس کے لیے راحت و آرام کا باعث ہو گا۔یاوہ ہو گا جو اسے خدا کی معصیت میں صرف کرے ،تو وہ تمہارے جمع کر دہ مال کی وجہ سے بد بخت ہو گا اور اس صورت میں تم خدا کی معصیت میںاس کے معین و مدد گار ہو گے ،اور ان دونوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ اسے اپنے نفس پر ترجیح دو۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام ایک دوسری صورت میں بھی روایت کیا گیا ہے جو یہ ہے جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے تم سے پہلے اس کے مالک دوسرے تھے۔اور یہ تمہارے بعد دوسروں کی طرف پلٹ جائے گا اور تم میں سے دو میں سے ایک کے لیے جمع کرنے والے ہو۔ایک وہ جو تمہارے جمع کئے ہوئے مال کو خد اکی اطاعت میں صرف کرے گا۔تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب ہوا وہ اس کے لیے سعادت و نیک بختی کا سبب ہو گا وہ جو اس مال سے اللہ کی معصیت کرے تو جو تم نے اس کے لیے جمع کیا وہ تمہارے لیے بد بختی کا سبب ہو گا اور ان دونوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں کہ اسے اپنی پشت کو گرانبار کرو ،جو گزر گیا اس کے لیے اللہ کی رحمت اور جو باقی رہ گیا ہے اس کے لیے رزق الہی کے امیدوار رہو۔ (416- امام حسن ؈ کو ہدایت)
اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا: اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 385
حکمت (385) : اللہ کے نزدیک دنیا کی حقارت کے لیے یہی بہت ہے کہ اللہ کی معصیت ہوتی ہے تو اس میں اور اس کے یہاں کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں تو اسے چھوڑنے سے۔ (385- دنیا)
اللہ کے نزدیک دنیا کی حقارت کے لیے یہی بہت ہے کہ اللہ کی معصیت ہوتی ہے۔
مزید پڑھیے
