Hikmat

مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب

483 اندراجات
حکمت (467) :  ایک کلام کے ضمن آپ نے فرمایا
لوگوں کے امور کا ایک حاکم و فرماں روا ذمہ دار ہوا جو سیدھے پر چلا اور دوسروں کو اس راہ پر لگایا۔ یہاں تک کہ دین نے اپنا سینہ ٹیک دیا۔ (467- ایک والی) حکمت حکمت 467

حکمت (467) : ایک کلام کے ضمن آپ نے فرمایا لوگوں کے امور کا ایک حاکم و فرماں روا ذمہ دار ہوا جو سیدھے پر چلا اور دوسروں کو اس راہ پر لگایا۔ یہاں تک کہ دین نے اپنا سینہ ٹیک دیا۔ (467- ایک والی)

ایک کلام کے ضمن آپ نے فرمایا

مزید پڑھیے
حکمت (468) :  لوگوں پر ایک ایسا گزند پہنچانے والا دور آئے گا، جس میں مالدار اپنے مال میں بخل کرے گا حالانکہ اسے یہ حکم نہیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ »آپس میں حسن سلوک کو فراموش نہ کرو «اس زمانہ میں شریر لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نیکو کار ذلیل خوار سمجھے جائیں گے اور مجبور اور بے بس لوگوں سے خرید و فروخت کی جائے گی۔حالانکہ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم نے مجبور و مضطر لوگوں سے (اونے پونے )خریدنے کو منع کیا ہے۔ (468- خریدو فروخت) حکمت حکمت 468

حکمت (468) : لوگوں پر ایک ایسا گزند پہنچانے والا دور آئے گا، جس میں مالدار اپنے مال میں بخل کرے گا حالانکہ اسے یہ حکم نہیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ »آپس میں حسن سلوک کو فراموش نہ کرو «اس زمانہ میں شریر لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نیکو کار ذلیل خوار سمجھے جائیں گے اور مجبور اور بے بس لوگوں سے خرید و فروخت کی جائے گی۔حالانکہ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم نے مجبور و مضطر لوگوں سے (اونے پونے )خریدنے کو منع کیا ہے۔ (468- خریدو فروخت)

لوگوں پر ایک ایسا گزند پہنچانے والا دور آئے گا، جس میں مالدار اپنے مال میں بخل کرے گا حالانکہ…

مزید پڑھیے
حکمت (469) :  میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاکت میں مبتلا ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ جانے والا اور دوسرا جھوٹ و افترا باندھنے والا۔
سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت کایہ قول اس ارشاد کے مانند ہے کہ میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاک ہوئے ایک محبت میں غلو کرنے والا، اور دوسرا دشمنی و عناد رکھنے والا۔ (469- دشمن و دوست) حکمت حکمت 469

حکمت (469) : میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاکت میں مبتلا ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ جانے والا اور دوسرا جھوٹ و افترا باندھنے والا۔ سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت کایہ قول اس ارشاد کے مانند ہے کہ میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاک ہوئے ایک محبت میں غلو کرنے والا، اور دوسرا دشمنی و عناد رکھنے والا۔ (469- دشمن و دوست)

میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاکت میں مبتلا ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ جانے والا اور…

مزید پڑھیے
حکمت (470) :  حضرت سے توحید و عدل کے متعلق سوال کیا گیا  تو آپ نے فرمایا
توحید یہ ہے کہ اسے اپنے وہم و تصور کا پابند نہ بناؤ اور یہ عدل ہے کہ اس پر الزامات نہ لگاؤ۔ (470- توحید و عدل) حکمت حکمت 470

حکمت (470) : حضرت سے توحید و عدل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا توحید یہ ہے کہ اسے اپنے وہم و تصور کا پابند نہ بناؤ اور یہ عدل ہے کہ اس پر الزامات نہ لگاؤ۔ (470- توحید و عدل)

حضرت سے توحید و عدل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا

مزید پڑھیے
حکمت (471) :  حکمت کی بات سے خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں جس طرح جہالت کے ساتھ بات کرنے میں کوئی بھلائی نہیں۔ (471- کلام اور خاموشی) حکمت حکمت 471

حکمت (471) : حکمت کی بات سے خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں جس طرح جہالت کے ساتھ بات کرنے میں کوئی بھلائی نہیں۔ (471- کلام اور خاموشی)

حکمت کی بات سے خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (472) :  طلب باراں کی ایک دعا میں فرمایا: بارِ  الہٰا! ہمیں فرمانبردار ابروں سے سیراب کر، نہ اُن ابروں سے جو سرکش اور منہ زور ہوں
سید رضی کہتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب فصاحت پر مشتمل ہے۔ اس طرح کہ امیر المومنین علیہ السلام نے کڑک، چمک، ہوا اور بجلی والے بادلوں کو اُن اونٹوں سے تشبیہ دی ہے کہ جو اپنی منہ زوری سے زمین پر پیر مار کر پالان پھینک دیتے ہوں اور اپنے سواروں کو گرا دیتے ہوں۔ اور ان خوفناک چیزوں سے خالی ابر کو ان اونٹنیوں سے تشبیہ دی ہے جو دوہنے میں مطیع ہوں اور سواری کرنے میں سوار کی مرضی کے مطابق چلیں۔ (472- طلب باراں) حکمت حکمت 472

حکمت (472) : طلب باراں کی ایک دعا میں فرمایا: بارِ الہٰا! ہمیں فرمانبردار ابروں سے سیراب کر، نہ اُن ابروں سے جو سرکش اور منہ زور ہوں سید رضی کہتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب فصاحت پر مشتمل ہے۔ اس طرح کہ امیر المومنین علیہ السلام نے کڑک، چمک، ہوا اور بجلی والے بادلوں کو اُن اونٹوں سے تشبیہ دی ہے کہ جو اپنی منہ زوری سے زمین پر پیر مار کر پالان پھینک دیتے ہوں اور اپنے سواروں کو گرا دیتے ہوں۔ اور ان خوفناک چیزوں سے خالی ابر کو ان اونٹنیوں سے تشبیہ دی ہے جو دوہنے میں مطیع ہوں اور سواری کرنے میں سوار کی مرضی کے مطابق چلیں۔ (472- طلب باراں)

طلب باراں کی ایک دعا میں فرمایا: بارِ الہٰا! ہمیں فرمانبردار ابروں سے سیراب کر، نہ اُن ابروں سے جو…

مزید پڑھیے
حکمت (473) :  حضرتؑ سےکہا گیا کہ اگر آپ سفید بالوں کو (خضاب سے) بدل دیتے تو بہتر ہوتا۔ اس پر حضرتؑ نے فرمایا کہ خضاب زینت ہے اور ہم لوگ سوگوار ہیں۔
سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت نے اس سے وفاتِ پیغمبر (ص) مراد لی ہے۔ (473- ترک خضاب) حکمت حکمت 473

حکمت (473) : حضرتؑ سےکہا گیا کہ اگر آپ سفید بالوں کو (خضاب سے) بدل دیتے تو بہتر ہوتا۔ اس پر حضرتؑ نے فرمایا کہ خضاب زینت ہے اور ہم لوگ سوگوار ہیں۔ سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت نے اس سے وفاتِ پیغمبر (ص) مراد لی ہے۔ (473- ترک خضاب)

حضرتؑ سےکہا گیا کہ اگر آپ سفید بالوں کو (خضاب سے) بدل دیتے تو بہتر ہوتا۔

مزید پڑھیے
حکمت (458) :  ایمان کی علامت یہ ہے کہ جہاں تمہارے لیے سچائی باعث نقصان ہو، اسے جھو ٹ پر ترجیح دو،خواہ وہ تمہارے فائدہ کا باعث ہو رہا ہو، اور تمہاری باتیں، تمہارے عمل سے زیادہ نہ ہوں اور دوسرے کے متعلق بات کرنے میں اللہ کا خوف کرتے رہو۔ (458- ایمان کی علامت) حکمت حکمت 458

حکمت (458) : ایمان کی علامت یہ ہے کہ جہاں تمہارے لیے سچائی باعث نقصان ہو، اسے جھو ٹ پر ترجیح دو،خواہ وہ تمہارے فائدہ کا باعث ہو رہا ہو، اور تمہاری باتیں، تمہارے عمل سے زیادہ نہ ہوں اور دوسرے کے متعلق بات کرنے میں اللہ کا خوف کرتے رہو۔ (458- ایمان کی علامت)

ایمان کی علامت یہ ہے کہ جہاں تمہارے لیے سچائی باعث نقصان ہو، اسے جھو ٹ پر ترجیح دو۔

مزید پڑھیے
حکمت (474) :  وہ مجاہد جو خدا کی راہ میں شہید ہو، اُس شخص سے زیادہ اجر کا مستحق نہیں ہے جو قدرت و اختیار رکھتے ہوئے پاک دامن رہے۔ کیا بعید ہے کہ پاکدامن فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہو جائے۔ (474- عفت) حکمت حکمت 474

حکمت (474) : وہ مجاہد جو خدا کی راہ میں شہید ہو، اُس شخص سے زیادہ اجر کا مستحق نہیں ہے جو قدرت و اختیار رکھتے ہوئے پاک دامن رہے۔ کیا بعید ہے کہ پاکدامن فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہو جائے۔ (474- عفت)

وہ مجاہد جو خدا کی راہ میں شہید ہو، اُس شخص سے زیادہ اجر کا مستحق نہیں ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (459) :  تقدیر ٹھہرائے ہوئے انداز ے پر غالب آ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ چارہ سازی ہی تباہی و آفت بن جاتی ہے۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ مطلب اس سے مختلف لفظوں میں پہلے بھی گزر چکا ہے۔ (459- تقدیر و تدبیر) حکمت حکمت 459

حکمت (459) : تقدیر ٹھہرائے ہوئے انداز ے پر غالب آ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ چارہ سازی ہی تباہی و آفت بن جاتی ہے۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ مطلب اس سے مختلف لفظوں میں پہلے بھی گزر چکا ہے۔ (459- تقدیر و تدبیر)

تقدیر ٹھہرائے ہوئے اندازے پر غالب آ جاتی ہے۔

مزید پڑھیے