0 اندراجات
تفصیلی وضاحت — حکمت (35) : جب شخص لوگوں کے لیے ایسی باتیں کہتے ہیں کہ جنہیں وہ جانتے نہیں۔ (35- مرنجان مرنج) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 35

تفصیلی وضاحت — حکمت (35) : جب شخص لوگوں کے لیے ایسی باتیں کہتے ہیں کہ جنہیں وہ جانتے نہیں۔ (35- مرنجان مرنج)

یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی گہرائی اور بصیرت کو ظاہر کرتی ہے۔

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (34) : بہتر ین دولت مندی یہ ہے کہ تمناؤں کو ترک کرے۔ (34- ترکِ آرزو) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 34

تفصیلی وضاحت — حکمت (34) : بہتر ین دولت مندی یہ ہے کہ تمناؤں کو ترک کرے۔ (34- ترکِ آرزو)

حکمت (34): بہترین دولتمندی یہ ہے کہ تمناؤں کو ترک کرے۔

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (33) : سخاوت کرو، لیکن فضول خرچی نہ کرو اور جزا رسی کرو، مگر بخل نہیں۔ (33- میانہ روی) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 33

تفصیلی وضاحت — حکمت (33) : سخاوت کرو، لیکن فضول خرچی نہ کرو اور جزا رسی کرو، مگر بخل نہیں۔ (33- میانہ روی)

یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی جانب سے ایک اہم اصول کی وضاحت کرتی ہے جو انسانی زندگی کے…

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (32) : نیک کام کرنے والا خود اس کام سے بہتر اور برائی کا مرتکب ہونے والا خود اس برائی سے بدتر ہے۔ (32- نیکی و بدی) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 32

تفصیلی وضاحت — حکمت (32) : نیک کام کرنے والا خود اس کام سے بہتر اور برائی کا مرتکب ہونے والا خود اس برائی سے بدتر ہے۔ (32- نیکی و بدی)

یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی تعلیمات کا ایک اہم پہلو ہے جو نیکی اور بدی کی نوعیت کو…

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (31) :  کفر بھی چار ستونوں پر قائم ہے۔ حد سے بڑھی ہوئی کاوش، جھگڑا، لُو پن، کج روی اور اختلاف۔ تو جب بے جا تعمق و کاوش کرتا ہے، وہ حق کی طرف رجوع نہیں ہوتا اور جب جہالت کی وجہ سے آئے دن جھگڑے کرتا ہے، وہ حق سے ہمیشہ اندھا رہتا ہے اور جب حق سے منہ موڑ لیتا ہے، وہ اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھنے لگتا ہے اور گمراہی کے نشہ میں مدہوش پڑا رہتا ہے اور جب حق کی خلاف ورزی کرتا ہے، اس کے راستے بہت دشوار اور اس کے معاملات سخت پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور بچ نکلنے کی راہ اس کے لیے تنگ ہو جاتی ہے۔ شک کی بھی چار شاخیں ہیں، کٹھ حجتی، خوف، سرگردانی اور باطل کے آگے جبیں سائی۔ چنانچہ جس نے لڑائی جھگڑے کو شیوہ بنا لیا، اس کی رات کبھی صبح سے ہمکنار نہیں ہو سکتی اور جس کو سامنے کی چیزوں نے ہول میں ڈال دیا، وہ الٹے پیر پلٹ جاتا ہے اور جب شک و شبہہ میں سرگرداں رہتا ہے، اسے شیاطین اپنے پنجوں سے روند ڈالتے ہیں اور جس نے دنیا و آخرت کی تباہی کے آگے سر تسلیم خم کر دیا، وہ دوجہاں میں تباہ و برباد ہوا۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ ہم نے طوالت کے خوف اور اس خیال سے کہ اصل مقصد جب اس بات کا ہے فوت نہ ہو، بقیہ کلام کو چھوڑ دیا ہے۔ (31- کفر) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 31

تفصیلی وضاحت — حکمت (31) : کفر بھی چار ستونوں پر قائم ہے۔ حد سے بڑھی ہوئی کاوش، جھگڑا، لُو پن، کج روی اور اختلاف۔ تو جب بے جا تعمق و کاوش کرتا ہے، وہ حق کی طرف رجوع نہیں ہوتا اور جب جہالت کی وجہ سے آئے دن جھگڑے کرتا ہے، وہ حق سے ہمیشہ اندھا رہتا ہے اور جب حق سے منہ موڑ لیتا ہے، وہ اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھنے لگتا ہے اور گمراہی کے نشہ میں مدہوش پڑا رہتا ہے اور جب حق کی خلاف ورزی کرتا ہے، اس کے راستے بہت دشوار اور اس کے معاملات سخت پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور بچ نکلنے کی راہ اس کے لیے تنگ ہو جاتی ہے۔ شک کی بھی چار شاخیں ہیں، کٹھ حجتی، خوف، سرگردانی اور باطل کے آگے جبیں سائی۔ چنانچہ جس نے لڑائی جھگڑے کو شیوہ بنا لیا، اس کی رات کبھی صبح سے ہمکنار نہیں ہو سکتی اور جس کو سامنے کی چیزوں نے ہول میں ڈال دیا، وہ الٹے پیر پلٹ جاتا ہے اور جب شک و شبہہ میں سرگرداں رہتا ہے، اسے شیاطین اپنے پنجوں سے روند ڈالتے ہیں اور جس نے دنیا و آخرت کی تباہی کے آگے سر تسلیم خم کر دیا، وہ دوجہاں میں تباہ و برباد ہوا۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ ہم نے طوالت کے خوف اور اس خیال سے کہ اصل مقصد جب اس بات کا ہے فوت نہ ہو، بقیہ کلام کو چھوڑ دیا ہے۔ (31- کفر)

حکمت (31) میں امام علی علیہ السلام نے کفر کے چار ستونوں کا ذکر کیا ہے: حد سے بڑھی ہوئی…

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (30) :  ایمان چار ستونوں پر قائم ہے۔صبر ،یقین ،عدل اور جہاد۔ پھر صبر کی چار شاخیں ہیں۔اشتیاق، خوف ، دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار۔اس لیے کہ جب جنت کا مشتاق ہو گا ،وہ خواہشوں کو بھلا دے گا اور جب دوزخ سے خوف کھائے گا وہ محرمات سے کنارہ کشی کرے گا اور جب دنیا سے بے اعتنائی اختیار کرے گا ،وہ مصیبتوں کو سہل سمجھے گا اور جسے موت کا انتظار ہو گا ،وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا۔اور یقین کی بھی چار شاخیں ہیں۔روشن نگاہی ،حقیقت رسی ،عبرت اندوزی اور اگلوں کا طور طریقہ۔چنانچہ جو دانش و آگہی حاصل کرے گا اس کے سامنے علم و عمل کی راہیں واضح ہو جائیں گی۔اور جس کے لیے علم و عمل آشکار ہو جائے گا ،وہ عبرت سے آشنا ہو گا وہ ایسا ہے جیسے وہ پہلے لوگوں میں موجود رہا ہو اور عدل کی بھی چار شاخیں ہیں ،تہوں تک پہنچنے والی فکر اور علمی گہرائی اور فیصلہ کی خوبی اور عقل کی پائیداری۔چنانچہ جس نے غور و فکر کیا ،وہ علم کی گہرائیوں میں اترا ،وہ فیصلہ کے سر چشموں سے سیراب ہو کر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی۔اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کر زندگی بسر کی اور جہاد کی بھی چار شاخیں ہیں۔امر بالمعروف ،نہی عن المنکر ،تمام موقعوں پر راست گفتاری اور بد کرداروں سے نفرت۔چنانچہ جس نے امر بالمعروف کیا ،اس نے مومنین کی پشت مضبوط کی ،اور جس نے نہی عن المنکر کیا اس نے کافروں کو ذلیل کیا اور جس نے تمام موقعوں پر سچ بولا ،اس نے اپنا فرض ادا کر دیا اور جس نے فاسقوں کو برا سمجھا اور اللہ کے لیے غضبناک ہوا اللہ بھی اس کے لیے دوسروں پر غضبناک ہو گا اور قیامت کے دن اس کی خوشی کا سامان کرے گا۔ (30- ایمان) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 30

تفصیلی وضاحت — حکمت (30) : ایمان چار ستونوں پر قائم ہے۔صبر ،یقین ،عدل اور جہاد۔ پھر صبر کی چار شاخیں ہیں۔اشتیاق، خوف ، دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار۔اس لیے کہ جب جنت کا مشتاق ہو گا ،وہ خواہشوں کو بھلا دے گا اور جب دوزخ سے خوف کھائے گا وہ محرمات سے کنارہ کشی کرے گا اور جب دنیا سے بے اعتنائی اختیار کرے گا ،وہ مصیبتوں کو سہل سمجھے گا اور جسے موت کا انتظار ہو گا ،وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا۔اور یقین کی بھی چار شاخیں ہیں۔روشن نگاہی ،حقیقت رسی ،عبرت اندوزی اور اگلوں کا طور طریقہ۔چنانچہ جو دانش و آگہی حاصل کرے گا اس کے سامنے علم و عمل کی راہیں واضح ہو جائیں گی۔اور جس کے لیے علم و عمل آشکار ہو جائے گا ،وہ عبرت سے آشنا ہو گا وہ ایسا ہے جیسے وہ پہلے لوگوں میں موجود رہا ہو اور عدل کی بھی چار شاخیں ہیں ،تہوں تک پہنچنے والی فکر اور علمی گہرائی اور فیصلہ کی خوبی اور عقل کی پائیداری۔چنانچہ جس نے غور و فکر کیا ،وہ علم کی گہرائیوں میں اترا ،وہ فیصلہ کے سر چشموں سے سیراب ہو کر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی۔اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کر زندگی بسر کی اور جہاد کی بھی چار شاخیں ہیں۔امر بالمعروف ،نہی عن المنکر ،تمام موقعوں پر راست گفتاری اور بد کرداروں سے نفرت۔چنانچہ جس نے امر بالمعروف کیا ،اس نے مومنین کی پشت مضبوط کی ،اور جس نے نہی عن المنکر کیا اس نے کافروں کو ذلیل کیا اور جس نے تمام موقعوں پر سچ بولا ،اس نے اپنا فرض ادا کر دیا اور جس نے فاسقوں کو برا سمجھا اور اللہ کے لیے غضبناک ہوا اللہ بھی اس کے لیے دوسروں پر غضبناک ہو گا اور قیامت کے دن اس کی خوشی کا سامان کرے گا۔ (30- ایمان)

حکمت (30): ایمان چار ستونوں پر قائم ہے: صبر، یقین، عدل اور جہاد۔

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (29) :  ڈرو !ڈرو !اس لیے کہ بخدا اس نے اس حد تک تمہاری پردہ پوشی کی ہے، کہ گویا تمہیں بخش دیا ہے۔ (29- پردہ پوشی) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 29

تفصیلی وضاحت — حکمت (29) : ڈرو !ڈرو !اس لیے کہ بخدا اس نے اس حد تک تمہاری پردہ پوشی کی ہے، کہ گویا تمہیں بخش دیا ہے۔ (29- پردہ پوشی)

یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی ایک عمیق نصیحت ہے جس میں وہ انسان کو خدا کے ستر اور…

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (28) : جب تم (دنیا کو) پیٹھ دکھا رہے ہو، اور موت تمہاری طرف رخ کیے ہوئے بڑھ رہی ہے تو پھر ملاقات میں دیر کیسی؟ (28- موت) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 28

تفصیلی وضاحت — حکمت (28) : جب تم (دنیا کو) پیٹھ دکھا رہے ہو، اور موت تمہاری طرف رخ کیے ہوئے بڑھ رہی ہے تو پھر ملاقات میں دیر کیسی؟ (28- موت)

یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی گہری بصیرت کی عکاسی کرتی ہے، جہاں وہ دنیا کی فانی نوعیت اور…

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (27) :  بہترین زُہد، زُہد کا مَخفی رکھنا ہے۔ (27- اخفائے زہد) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 27

تفصیلی وضاحت — حکمت (27) : بہترین زُہد، زُہد کا مَخفی رکھنا ہے۔ (27- اخفائے زہد)

حکمت (27): بہترین زُہد، زُہد کا مَخفی رکھنا ہے۔

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (26) : مرض میں جب تک ہمت ساتھ دے، چلتے پھرتے رہو۔ (26- ہمت نہ چھوڑو) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 26

تفصیلی وضاحت — حکمت (26) : مرض میں جب تک ہمت ساتھ دے، چلتے پھرتے رہو۔ (26- ہمت نہ چھوڑو)

یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی زندگی کے تجربات اور ان کی بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔

مزید پڑھیے