Hikmat
مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب
حکمت
حکمت 39
حکمت (39) : مستحبات سے قربِ الٰہی نہیں حاصل ہوسکتا، جب کہ وہ واجبات میں سدِ راہ ہوں۔ (39- فرائض کی اہمیت)
مستحبات سے قربِ الٰہی نہیں حاصل ہوسکتا، جب کہ وہ واجبات میں سدِ راہ ہوں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 55
حکمت (55) : صبر دو طرح کا ہوتا ہے ایک ناگوار باتوں پر صبر اور دوسرے پسندیدہ چیزوں سے صبر۔ (55- صبر کی دو قسمیں)
صبر دو طرح کا ہوتا ہے: ایک ناگوار باتوں پر صبر اور دوسرے پسندیدہ چیزوں سے صبر۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 24
حکمت (24) : اے آدم علیہ السّلام کے بیٹے جب تو دیکھے کہ اللہ تجھے پے درپے نعمتیں دے رہا ہے اور تو اس کی نافرمانی کر رہا ہے تو اس سے ڈرتے رہنا۔ (24- مہلت)
اے آدَم علیہ السّلام کے بیٹے جب تو دیکھے کہ اللہ تجھے پے در پے نعمتیں دے رہا ہے تو…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 40
حکمت (40) : عَقْل مَنْد کی زَبان اس کے دِل کے پِیچھے ہے اور بے وَقُوف کا دِل اس کی زَبان کے پِیچھے ہے۔ (40- دانا و نادان)
عَقْل مَنْد کی زَبان اس کے دِل کے پِیچھے ہے اور بے وَقُوف کا دِل اس کی زَبان کے پِیچھے…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 56
حکمت (56) : دولت ہو تو پردیس میں بھی دیس ہے اور مفلسی ہو تو دیس میں بھی پردیس (56- فقر و غنا)
دولت ہو تو پردیس میں بھی دیس ہے اور مفلسی ہو تو دیس میں بھی پردیس
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 25
حکمت (25) : جب کسی نے بھی کوئی بات دل میں چھپا کہ رکھنا چاہی تو وہ اس کی زبان سے بے ساختہ نکلے ہوئے الفاظ اور چہرہ کے آثار سے نمایاں ضرور ہو جاتی ہے۔ (25- بات چھپ نہیں سکتی)
دل کی باتیں زبان اور چہرے کے آثار سے ظاہر ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 41
حکمت (41) : یہی مطلب دوسرے لفظوں میں بھی حضرت سے مروی ہے اور وہ یہ کہ »بے وقوف کا دل اس کے منہ میں ہے اور عقلمند کی زبان اس کے دل میں ہے«۔بہر حال ان دونوں جملوں کا مقصد ایک ہے۔ (41- عاقل و احمق)
بے وقوف کا دل اس کے منہ میں ہے اور عقلمند کی زبان اس کے دل میں ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 57
حکمت (57) : قناعت وہ سرمایہ ہے جب ختم نہیں ہو سکتا۔ (57- قناعت)
قناعت وہ سرمایہ ہے جب ختم نہیں ہو سکتا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 26
حکمت (26) : مرض میں جب تک ہمت ساتھ دے، چلتے پھرتے رہو۔ (26- ہمت نہ چھوڑو)
مَرَض میں جب تَک ہَمَّت سَاتھ دے چَلتے پھِرتے رہو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 42
حکمت (42) : اللہ نے تمہارے مرض کو تمہارے گناہوں کو دور کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ کیونکہ خود مرض کا کوئی ثواب نہیں ہے۔ مگر وہ گناہوں کو مٹاتا اور انہیں اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔ ہاں ! ثواب اس میں ہوتا ہے کہ کچھ زبان سے کہا جائے اور کچھ ہاتھ پیروں سے کیا جائے، اور خدا وند عالم اپنے بندوں میں سے نیک نیتی اور پاکدامنی کی وجہ سے جسے چاہتا ہے جنت میں داخل کرتا ہے۔ (42- اجر و عوض)
اللہ نے تمہارے مرض کو تمہارے گناہوں کو دور کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیے
