خطبہ
خطبہ 228
خطبہ (228) : جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا (228- جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا)
امیر المومنین ؑ نے بصرہ کی طرف جاتے ہوے مقام ذی قار میں یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔
خطبہ
خطبہ 229
خطبہ (229) : عبد اللہ ابن زمعہ نے آپ سے مال طلب کیا تو فرمایا (229- عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا)
عبد اللہ ابن زمعہ نے مال طلب کیا تو حضرت نے فرمایا: یہ مال مسلمانوں کا حق ہے۔
خطبہ
خطبہ 230
خطبہ (230) : جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا (230- جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا)
زبان انسان کا ایک ٹکڑا ہے۔ حق گو کم ہیں اور نفاق کی بنا پر صلح و صفائی رکھتے ہیں۔
خطبہ
خطبہ 231
خطبہ (231) : لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت (231- لوگوں کے اختلاف صورت و سیرت کی وجوہ و اسباب)
امیر المومنین ؑ نے لوگوں کے اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے مبدا طینت نے تفریق پیدا…
خطبہ
خطبہ 232
خطبہ (232) : پیغمبر ﷺ کو غسل دیتے وقت فرمایا (232- پیغمبر ﷺ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا)
رسول ﷺ کو غسل و کفن دیتے وقت فرمایا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔
خطبہ
خطبہ 233
خطبہ (233) : ہجرتِ پیغمبر ﷺ کے بعد اُن کے عقب میں روانہ ہونے کے متعلق فرمایا (233- ہجرتِ پیغمبر ﷺ کے بعد اُن کے عقب میں روانہ ہونے کے متعلق)
اس 1میں پیغمبر ﷺ کی ہجرت کے بعد اپنی کیفیت اور پھر اُن تک پہنچنے تک کی حالت کا تذکرہ…
خطبہ
خطبہ 234
خطبہ (234) : :دنیا میں زادِ آخرت مہیا کرنے اور موت سے پہلے عمل بجا لانے کے متعلق فرمایا (234- زادِ آخرت مہیا کرنے اور موت سے پہلے عمل بجا لانے کے متعلق)
اعمال بجا لاؤ، ابھی جب کہ تم زندگی کی فراخی و وسعت میں ہو۔
خطبہ
خطبہ 235
خطبہ (235) : حکمین کے بارے میں فرمایا (235- حکمین کے بارے میں فرمایا اور اہل شام کی مذمت میں فرمایا)
امام علی (ع) نے حکمین کی حقیقت اور اہل شام کی مذمت کی۔
خطبہ
خطبہ 236
خطبہ (236) : آلِ محمد کی توصیف اور روایت میں عقل و درایت سے کام لینے کے لئے فرمایا (236- آلِ محمدؑ کی توصیف اور روایت میں عقل و درایت سے کام لینا)
آلِ محمد علم کے لیے باعثِ حیات اور جہالت کے لیے سبب مرگ ہیں۔
خطبہ
خطبہ 237
خطبہ (237) : جب عثمان نے عبد اللہ ابن عباس کے ذریعے آپ کو یہ پیغمام بھجوایا کہ آپ ینبع چلے جائیں تو یہ فرمایا (237- جب عثمان نے ینبع چلے جانے کے لیے پیغام بھجوایا تو فرمایا)
جن دنوں میں عثمان ابن عفان محاصرہ میں تھے، عبد اللہ ابن عباس نے آپ کو ینبع جانے کی درخواست…
