Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 356
تفصیلی وضاحت — حکمت (356) : حضرت سے کہا گیا کہ اگر کسی شخص کو گھر میں چھوڑ کر اس کا دروازہ بند کر دیا جائے تو اس کی روزی کدھر سے آئے گی؟ فرمایا جدھر سے اس کی موت آئے گی۔ (356- رزق رسانی)
حکمت (356) میں حضرت علی علیہ السلام کی یہ بات ہمیں ایک اہم حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 355
تفصیلی وضاحت — حکمت (355) : حضرت کے عمال میں سے ایک شخص نے ایک بلند عمارت تعمیر کی جس پر آپ نے فرمایا۔ چاندی کے سکوں نے سر نکالا ہے۔ بلاشبہ یہ عمارت تمہاری ثروت کی غمازی کرتی ہے۔ (355- دولت کے آثار)
حکمت (355) میں امام علی علیہ السلام نے ایک بلند عمارت کی تعمیر پر تبصرہ کیا۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 354
تفصیلی وضاحت — حکمت (354) : حضرت کے سامنے ایک نے دوسرے شخص کو فرزند کے پیدا ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ »شہسوار مبارک ہو«۔جس پر حضرت نے فرمایا کہ یہ نہ کہو کہ تم بخشنے والے (خدا) کے شکر گزار ہوئے یہ بخشی ہوئی نعمت تمہیں مبارک ہو، یہ اپنے کمال کو پہنچے اور اس کی نیکی و سعادت تمہیں نصیب ہو۔ (354- تہنیت فرزند)
حکمت (354) میں حضرت علی علیہ السلام نے ایک شخص کی مبارکباد کا جواب دیتے ہوئے ایک اہم درس دیا…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 353
تفصیلی وضاحت — حکمت (353) : سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ اس عیب کو برا کہو، جس کے مانند خود تمہارے اندر موجود ہے۔ (353- عیب جوئی)
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی ایک عمیق بصیرت کو ظاہر کرتی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 352
تفصیلی وضاحت — حکمت (352) : اپنے اصحاب میں سے ایک سے فرمایا زن و فرزند کی زیادہ فکر میں نہ رہو، اس لیے کہ اگر وہ دوستان خدا ہیں تو خدا اپنے دوستوں کو برباد نہ ہونے دے گا اور اگر دشمنان خدا ہیں تو تمہیں دشمنان خدا کی فکروں اور دھندوں میں پڑنے سے مطلب ہی کیا۔ (352- زن و فرزند سے لگاؤ)
حکمت (352) میں امام علی (علیہ السلام) اپنے اصحاب کو نصیحت کرتے ہیں کہ بیوی اور بچوں کی فکر میں…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 351
تفصیلی وضاحت — حکمت (351) : جب سختی انتہا کو پہنچ جائے تو کشائش و فراخی ہو گی اور جب ابتلاء و مصیبت کی کڑیاں تنگ ہو جائیں تو راحت و آسائش حاصل ہوتی ہے۔ (351- سختی کے بعد آسانی)
حکمت (351) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جب انسان کی…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 350
تفصیلی وضاحت — حکمت (350) : لوگوں میں جو ظالم ہو اس کی تین علامتیں ہیں :وہ ظلم کرتا ہے اپنے سے بالا ہستی کی خلاف ورزی سے، اور اپنے سے پست لوگوں پر قہر و تسلط سے اور ظالموں کی کمک و امداد کرتا ہے۔ (350- ظالم کے علامات)
امام علی علیہ السلام کی یہ حکمت ظلم کے بارے میں ایک عمیق بصیرت فراہم کرتی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 349
تفصیلی وضاحت — حکمت (349) : جو شخص اپنے عیوب پر نظر رکھے گا وہ دوسروں کی عیب جوئی سے باز رہے گا۔ اور جو اللہ کے دیئے ہوئے رزق پر خوش رہے گا، وہ نہ ملنے والی چیز پر رنجیدہ نہیں ہو گا۔ جو ظلم کی تلوار کھینچتا ہے وہ اسی سے قتل ہوتا ہے جو اہم امور کو زبردستی انجام دینا چاہتا ہے۔ وہ تباہ و بر باد ہوتا ہے، جو اٹھتی ہوئی موجوں میں پھاندتا ہے، وہ ڈوبتا ہے، جو بدنامی کی جگہوں پر جائے گا، وہ بدنام ہو گا، جو زیادہ بولے گا، وہ زیادہ لغزشیں کرے گا اور جس میں حیا کم ہو اس میں تقویٰ کم ہو گا اور جس میں تقویٰ کم ہو گا اس کا دل مردہ ہو جائے گا۔ اور جس کا دل مردہ ہو گیا وہ دوزخ میں جا پڑا۔ جو شخص لوگوں کے عیوب کو دیکھ کر نا ک بھول چڑھائے اور پھر انہیں اپنے لیے چاہے اور سرا سرا حمق ہے قناعت ایسا سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ جو موت کو زیادہ یاد رکھتا ہے وہ تھوڑی سی دنیا پر بھی خوش ہو رہتا ہے۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کا قول بھی عمل کا ایک جز ہے، وہ مطلب کی بات کے علاوہ کلام نہیں کرتا۔ (349- اچھے اور بُرے اوصاف)
حکمت (349) میں امام علی (علیہ السلام) نے انسانی نفسیات اور معاشرتی رویوں پر گہری بصیرت فراہم کی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 348
تفصیلی وضاحت — حکمت (348) : سب سے بھاری گناہ وہ ہے کہ جس کا ارتکاب کرنے والا اسے سبک سمجھے۔ (348- بڑا گناہ)
حکمت (348): سب سے بھاری گناہ وہ ہے کہ جس کا ارتکاب کرنے والا اسے سبک سمجھے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 347
تفصیلی وضاحت — حکمت (347) : کسی کو اس کے حق سے زیادہ سراہنا چاپلوسی ہے اور حق میں کمی کرنا کوتاہ بیانی ہے یا حسد۔ (347- مدح میں حد اعتدال)
امام علی (علیہ السلام) کی یہ حکمت انسانی معاشرت میں اخلاقی اور سماجی اصولوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
