Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 376
تفصیلی وضاحت — حکمت (376) : حق گراں، مگر خوش گوار ہوتا ہے اور باطل ہلکا،مگر وبا پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ (376- حق و باطل کا نتیجہ)
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی بصیرت اور حقیقت کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 375
تفصیلی وضاحت — حکمت (375) : ابو حجیفہ سے روایت ہے کہ انہوں نے امیر المومنین علیہ السّلام کو فرماتے سنا کہ پہلا جہاد کہ جس سے تم مغلوب ہو جاؤ گے، ہاتھ کا جہاد ہے۔ پھر زبان کا، پھر دل کا جس نے د ل سے بھلائی کو اچھائی اور برائی کو برا نہ سمجھا، اسے الٹ پلٹ کر دیا جائے گا۔ اس طرح کہ اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر کر دیا جائے گا۔ (375- امر بالمعروف و نہی عن المنکر)
حکمت (375) میں امام علی علیہ السلام نے جہاد کے مختلف مراحل کی وضاحت کی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 374
تفصیلی وضاحت — حکمت (374) : اسی انداز پر حضرت کا ایک یہ کلام ہے لوگوں میں سے ایک وہ ہے جو برائی کو ہاتھ، زبان اور دل سے برا سمجھتا ہے۔ چنانچہ اس نے اچھی خصلتوں کو پورے طور پر حاصل کر لیا ہے اور ایک وہ ہے جو زبان اور دل سے براسمجھتا ہے لیکن ہاتھ سے اسے نہیں مٹاتا تو اس نے اچھی خصلتوں میں سے دو خصلتوں سے ربط رکھا اور ایک خصلت کو رائیگاں کر دیا اور ایک وہ ہے جو دل سے برا سمجھتا ہے لیکن اسے مٹانے کے لیے ہاتھ اور زبان کسی سے کام نہیں لیتا اس نے تین خصلتوں میں سے دو عمدہ خصلتوں کو ضائع کر دیا، اور صرف ایک سے وابستہ رہا اور ایک وہ ہے جو نہ زبان سے، نہ ہاتھ سے اور نہ دل سے برائی کی روک تھام کرتا ہے، یہ زندوں میں (چلتی پھرتی ہوئی )لاش ہے۔ (374- امر بالمعروف و نہی عن المنکر)
حکمت (374): امام علی (علیہ السلام) کی یہ بات برائی کے خلاف جدوجہد کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 373
تفصیلی وضاحت — حکمت (373) : ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں عبدالرحمٰن ابن ابی لیلیٰ فقیہ سے روایت کی ہے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو ابن اشعث کے ساتھ حجا ج سے لڑنے کے لیے نکلے تھے کہ وہ لوگوں کو جہاد پر ابھارنے کے لیے کہتے تھے کہ جب اہل شام سے لڑنے کے لیے بڑھے تو میں نے علی علیہ السلام کو فرماتے سنا۔ اے اہل ایمان ! جو شخص دیکھے کہ ظلم و عدوان پر عمل ہو رہا ہے اور برائی کی طرف دعوت دی جا رہی ہے اور وہ دل سے اسے برا سمجھے، تو وہ (عذاب سے )محفوظ اور (گناہ سے) بری ہو گیا، اور جو زبان سے اسے برا کہے وہ ماجور ہے صرف دل سے بر اسمجھنے والے سے افضل ہے اور جو شخص شمشیر بکف ہو کر اس برائی کے خلاف کھڑا ہوتا کہ اللہ کا بول بالا ہو، اور ظالموں کی بات گر جائے تو یہی وہ شخص ہے جس نے ہدایت کی راہ کو پا لیا اور سیدھے راستے پر ہولیا اور اس کے دل میں یقین نے روشنی پھیلا دی۔ (373- امر بالمعروف و نہی عن المنکر)
حکمت (373) میں امام علی علیہ السلام نے اجتماعی انصاف اور برائی کے خلاف جہاد کی اہمیت بیان کی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 372
تفصیلی وضاحت — حکمت (372) : جابر ابن عبداللہ انصار ی سے فرمایا اے جابر! چارقسم کے آدمیوں سے دین و دنیا کا قیام ہے عالم جو اپنے علم کو کام میں لاتا ہو،جاہل جو علم کے حاصل کرنے میں عار نہ کرتا ہو،سخی جو داد و دہش میں بخل نہ کرتا ہو، اور فقیر جو آخرت کو دنیا کے عوض نہ بیچتا ہو۔ تو جب عالم اپنے علم کو برباد کرے گا، تو جاہل اس کے سیکھنے میں عار سمجھے گا اور جب دولت مند نیکی و احسان میں بخل کرے گا تو فقیر اپنی آخرت دنیا کے بدلے بیچ ڈالے گا۔ اے جابر ! جس پر اللہ کی نعمتیں زیادہ ہوں گی لوگوں کی حاجتیں بھی اس کے دامن سے زیادہ وابستہ ہوں گی لہٰذا جو شخص ان نعمتوں پر عائد ہونے والے حقوق کو اللہ کی خاطر ادا کرے گا، وہ ان کے لیے دوام و ہمیشگی کا سامان کرے گا اور جو ان واجب حقوق کے ادا کرنے کے لیے کھڑا نہیں ہو گا وہ انہیں فنا و بربادی کی زد پر لے آئے گا۔ (372- جابر ابن عبد اللہ)
حکمت (372): دین و دنیا کا قیام چار قسم کے آدمیوں سے ہے: عالم، جاہل، سخی، اور فقیر۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 371
تفصیلی وضاحت — حکمت (371) : کوئی شرف اسلام سے بلند تر نہیں کوئی بزرگی تقویٰ سے زیادہ با وقار نہیں، کوئی پناہ گاہ پرہیز گاری سے بہتر نہیں، کوئی سفارش کرنے والا توبہ سے بڑھ کر کامیاب نہیں، کوئی خزانہ قناعت سے زیادہ بے نیاز کرنے والا نہیں کوئی مال بقدر کفاف پر رضا مند رہنے سے بڑھ کر فقر و احتیاج کا دور کرنے والا نہیں۔ جو شخص قدر حاجت پر اکتفا کر لیتا ہے وہ آسائش و راحت پا لیتا ہے۔ اور آرام و آسودگی میں منزل بنا لیتا ہے۔ خواہش و رغبت، رنج و تکلیف کی کلید اور مشقت و اندو ہ کی سوار ی ہے۔حرص تکبر اور حسد گناہوں میں پھاند پڑنے کے محرکات ہیں اور بدکرداری تمام برے عیوب کو حاوی ہے۔ (371- اچھی اور بُری صفتیں)
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی ایک عمیق بصیرت کی عکاسی کرتی ہے جو انسان کی روحانی اور اخلاقی…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 370
تفصیلی وضاحت — حکمت (370) : جب بھی آپ منبر پر رونق افروز ہوتے تو ایسا اتفاق کم ہوتا تھا کہ خطبہ سے پہلے یہ کلمات نہ فرمائیں۔ اے لوگو! اللہ سے ڈرو،کیونکہ کوئی شخص بے کار پیدا نہیں کیا گیا کہ وہ کھیل کود میں پڑ جائے، اور نہ اسے بے قید و بند چھوڑ دیا گیا ہے کہ بیہودگیاں کرنے لگے اور دنیا جو اس کے لیے آراستہ و پیراستہ ہے اس آخرت کا عوض نہیں ہوسکتی جس کو اس کی غلط نگاہ نے بری صورت میں پیش کیا ہے وہ فریب خوردہ جو اپنی بلند ہمتی سے دنیا حاصل کرنے میں کامیاب ہو اس دوسرے شخص کے مانند نہیں ہوسکتا جس نے تھوڑا بہت آخرت کا حصہ حاصل کر لیا ہو۔ (370- تقویٰ و پرہیزگاری)
حکمت (370) میں امام علی (علیہ السلام) نے لوگوں کو اللہ سے ڈرنے کی تلقین کی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 369
تفصیلی وضاحت — حکمت (369) : لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ان میں صرف قرآن کے نقوش اور اسلام کا صر ف نام باقی رہ جائے گا، اس وقت مسجدیں تعمیر و زینت کے لحاظ سے آباد اور ہدایت کے اعتبار سے ویران ہوں گی۔ ان میں ٹھہرنے والے اور انہیں آباد کرنے والے تمام اہل زمین میں سب سے بدتر ہوں گے، وہ فتنوں کا سرچشمہ اور گناہوں کا مرکز ہوں گے جو ان فتنوں سے منہ موڑ ے گا، انہیں انہی فتنوں کی طرف پلٹائیں گے اور جو قدم پیچھے ہٹائے گا، انہیں دھکیل کر ان کی طرف لائیں گے۔ ارشاد الہی ہے کہ »مجھے اپنی ذات کی قسم میں ان لوگوں پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس میں حلیم و بردبار کو حیران و سر گردان چھوڑ دوں گا «۔ چنانچہ وہ ایسا ہی کرے گا، ہم اللہ سے غفلت کی ٹھوکروں سے عفو کے خواستگار ہیں۔ (369- ایک زمانہ)
حکمت (369) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک دور کی پیش گوئی کی ہے جب لوگوں میں صرف قرآن…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 368
تفصیلی وضاحت — حکمت (368) : اللہ سبحانہ نے اپنی اطاعت پر ثواب اور اپنی معصیت پر سزا اس لیے رکھی ہے کہ اپنے بندوں کو عذاب سے دور کرے اور جنت کی طرف گھیر کر لے جائے۔ (368- ثواب و عقاب)
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی یہ حکمت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کے لئے ثواب اور…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 367
تفصیلی وضاحت — حکمت (367) : اے لوگو! دنیا کا سازوسامان سوکھا سڑا بھوسا ہے جو وبا پیدا کرنے والا ہے۔ لہٰذا اس چراگاہ سے دور رہو کہ جس سے چل چلاؤ باطمینان منزل کرنے سے زیادہ فائدہ مند ہے اور صرف بقدر کفاف لے لینا اس دولت و ثروت سے زیادہ برکت والا ہے اس کے دولت مندوں کے لیے فقر طے ہو چکا ہے اور اس سے بے نیاز رہنے والوں کو راحت کا سہارا دیا گیا ہے۔ جس کو اس کی سج دھج لبھا لیتی ہے، وہ انجام کار اس کی دونوں آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے اور جو اس کی چاہت کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ اس کے دل کو ایسے غموں سے بھر دیتی ہے جو دل کی گہرائیوں میں تلاطم برپا کر تے ہیں یوں کہ کبھی کوئی فکر اسے گھیرے رہتی ہے، اور کبھی کوئی اندیشہ اسے رنجیدہ بنائے رہتا ہے۔ وہ اسی حالت میں ہوتا ہے کہ اس کا گلا گھوٹا جانے لگتا ہے اور وہ بیابان میں ڈال دیا جاتا ہے اس عالم میں کہ اس کے دل کی دونوں رگیں ٹوٹ چکی ہوتی ہیں۔ اللہ کو اس کا فنا کرنا سہل اور اس کے بھائی بندوں کا اسے قبر میں اتارنا آسان ہو جاتا ہے۔مومن دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس سے اتنی ہی غذا حاصل کرتا ہے۔ جتنی پیٹ کی ضرورت مجبور کرتی ہے اور اس کے بارے میں ہر بات کو بغض و عناد کے کانوں سے سنتا ہے اگر کسی کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مال دار ہو گیا ہے تو پھر یہ بھی کہنے میں آتا ہے کہ نادار ہو گیا ہے اگر زندگی پر خوشی کی جاتی ہے تو مرنے پر غم بھی ہوتا ہے۔ یہ حالت ہے حالانکہ ابھی وہ دن نہیں آیا کہ جس میں پوری مایوسی چھا جائے گی۔ (367- تغیر و انقلاب)
حکمت (367) میں امام علی (علیہ السلام) دنیا کی فانی نوعیت اور اس کی عارضیت کو بیان کرتے ہیں۔
