Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 386
تفصیلی وضاحت — حکمت (386) : جو شخص کسی چیز کو طلب کرے تو اسے یا اس کے بعض حصہ کو پالے گا۔ (جویندہ یا بندہ ) (386- جویندہ یا بندہ)
حکمت (386) میں امام علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "جو شخص کسی چیز کو طلب کرے تو اسے یا اس…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 385
تفصیلی وضاحت — حکمت (385) : اللہ کے نزدیک دنیا کی حقارت کے لیے یہی بہت ہے کہ اللہ کی معصیت ہوتی ہے تو اس میں اور اس کے یہاں کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں تو اسے چھوڑنے سے۔ (385- دنیا)
حکمت (۳۸۵) میں امام علی (علیہ السلام) دنیا کی حقارت کا بڑا ثبوت بیان کرتے ہیں۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 384
تفصیلی وضاحت — حکمت (384) : دنیا کی حالت دیکھتے ہوئے اس کی طرف جھکنا جہالت ہے اور حسن عمل کے ثواب کا یقین رکھتے ہوئے اس میں کوتاہی کرنا گھاٹا اٹھانا ہے۔ اور پرکھے بغیر ہر ایک پر بھروسا کر لینا عجز و کمزور ی ہے۔ (384- محل اعتماد)
حکمت (384) میں امام علی علیہ السلام نے دنیا کی فانی نوعیت اور اس کی طرف جھکنے کے نقصانات کی…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 383
تفصیلی وضاحت — حکمت (383) : اس بات سے ڈرتے رہو کہ اللہ تمہیں اپنی معصیت کے وقت موجود اور اپنی اطاعت کے وقت غیر حاضر پائے تو تمہارا شمار گھاٹا اٹھانے والوں میں ہو گا۔جب قوی و دانا ثابت ہونا ہو تو اللہ کی اطاعت پر اپنی قوت دکھاؤ اور کمزور بننا ہو تواس کی معصیت سے کمزوری دکھاؤ۔ (383- معصیت)
حکمت (383) میں امام علی علیہ السلام نے اللہ کی اطاعت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 382
تفصیلی وضاحت — حکمت (382) : جو نہیں جانتے اسے نہ کہو، بلکہ جو جانتے ہو، وہ بھی سب کاسب نہ کہو۔ کیونکہ اللہ سبحانہ نے تمہارے تمام اعضا پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں جن کے ذریعہ قیامت کے دن تم پر حجت لائے گا۔ (382- سکوت)
حکمت (382) میں امام علی (علیہ السلام) نے علم کی ذمہ داری پر زور دیا ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 381
تفصیلی وضاحت — حکمت (381) : کلام تمہارے قید وبند میں ہے جب تک تم نے اسے کہا نہیں ہے اور جب کہہ دیا، تو تم اس کی قید و بند میں ہو۔ لہٰذا اپنی زبان کی اسی طرح حفاظت کرو جس طرح اپنے سونے چاندی کی کرتے ہو کیونکہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کسی بڑی نعمت کو چھین لیتی اور مصیبت کو نازل کر دیتی ہیں۔ (381- زبان کی نگہداشت)
حکمت (381) میں امام علی (علیہ السلام) نے زبان کی اہمیت اور اس کے اثرات پر روشنی ڈالی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 380
تفصیلی وضاحت — حکمت (380) : بہت سے لوگ ایسے دن کا سامنا کرتے ہیں جس سے انہیں پیٹھ پھرانا نہیں ہوتا۔ اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں کہ رات کے پہلے حصہ میں ان پر رشک کیا جاتا ہے اور آخر ی حصہ میں ان پر رونے والیوں کا کہرام بپا ہوتا ہے۔ (380- زندگی و موت)
حکمت (380) میں امام علی (علیہ السلام) نے انسانی زندگی کی ناپائیداری کی عکاسی کی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 379
تفصیلی وضاحت — حکمت (379) : رزق دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس کی تلا ش میں تم ہو، اور ایک وہ جو تمہاری جستجو میں ہے۔ اگر تم اس تک نہ پہنچ سکو گے، تو وہ تم تک پہنچ کر رہے گا۔ لہٰذا اپنے ایک دن کی فکر پر سال بھر کی فکریں نہ لادو۔ جو ہر دن کا رزق ہے وہ تمہارے لیے کافی ہے، تو اللہ ہر نئے دن جو روزی اس نے تمہارے لیے مقرر کر رکھی ہے وہ تمہیں دے گا اور تمہاری عمر کا کوئی سال باقی نہیں ہے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ کوئی طلبگار تمہارے رزق کی طرف تم سے آگے بڑھ نہیں سکتا اور نہ کوئی غلبہ پانے والا اس میں تم پر غالب آسکتا ہے اور جو تمہارے لیے مقدر ہو چکا ہے اس کے ملنے میں کبھی تاخیر نہ ہو گی۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ) یہ کلام اسی باب میں پہلے بھی درج ہو چکا ہے۔ مگر یہاں کچھ زیادہ وضاحت و تشریح کے ساتھ تھا،اس لیے ہم نے اس کا اعادہ کیا ہے اس قاعدہ کی بناء پر جو کتا ب کے دیباچہ میں گزر چکا ہے۔ (379- رزق وروزی)
حکمت (379) میں امام علی (علیہ السلام) نے رزق کی دو اقسام کی وضاحت کی ہے: ایک وہ رزق جو…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 378
تفصیلی وضاحت — حکمت (378) : بخل تمام برے عیوب کا مجموعہ ہے اور ایسی مہار ہے جس سے ہر برائی کی طرف کھنچ کر جایا جا سکتا ہے۔ (378- بخل)
حکمت (378): بخل تمام برے عیوب کا مجموعہ ہے اور ایسی مہار ہے جس سے ہر برائی کی طرف کھنچ…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 377
تفصیلی وضاحت — حکمت (377) : اس امت کے بہترین شخص کے بارے میں بھی اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن نہ ہو جاؤ۔کیونکہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ »گھاٹا اٹھانے والے لوگ ہی اللہ کے عذاب سے مطمئن ہو بیٹھے ہیں «۔اور اس امت کے بدترین آدمی کے بارے میں بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ کیونکہ ارشاد الہی ہے کہ »خدا کی رحمت سے کافروں کے علاوہ کوئی اور ناامید نہیں ہوتا «۔ (377- امید و یاس)
امام علی علیہ السلام ہمیں اللہ کے عذاب سے مطمئن نہیں ہونے اور رحمت کی امید رکھنے کی نصیحت کرتے…
