Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 202
تفصیلی وضاحت — حکمت (202) : طلحہ و زبیر نے حضرت سے کہا کہ ہم اس شرط پر آپ کی بیعت کرتے ہیں کہ اس حکومت میں آپ کے ساتھ شریک رہیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ تم تقویت پہنچانے اور ہاتھ بٹانے میں شریک اور عاجزی اور سختی کے موقع پر مددگار ہو گے۔ (202- بجواب طلحہ و زبیر)
حکمت (202) میں حضرت علیؑ کا یہ قول طلحہ اور زبیر کے ساتھ ایک اہم تاریخی موقع پر سامنے آیا۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 201
تفصیلی وضاحت — حکمت (201) : ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں اور جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ اس کے اور موت کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں اور بے شک انسان کی مقررہ عمر اس کے لیے ایک مضبوط سپر ہے۔ (201- محافظ فرشتے)
حکمت (۲۰۱) میں امام علی علیہ السلام نے انسانی زندگی کی حفاظت اور تقدیر کے بارے میں ایک عمیق حقیقت…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 200
تفصیلی وضاحت — حکمت (200) : آپ کے سامنے ایک مجرم لایا گیا جس کے ساتھ تماشائیوں کا ہجوم تھا تو آپ نے فرمایا :ان چہروں پر پھٹکار کہ جو ہر رسوائی کے موقع پر ہی نظر آتے ہیں۔ (200- تماشائی)
حکمت (200): آپ کے سامنے ایک مجرم لایا گیا جس کے ساتھ تماشائیوں کا ہجوم تھا۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 199
تفصیلی وضاحت — حکمت (199) : بازاری آدمیوں کی بھیڑ بھاڑ کے بارے میں فرمایا: یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ مجتمع ہوں تو چھا جاتے ہیں۔ جب منتشر ہوں تو پہچانے نہیں جاتے۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ نے فرمایا :کہ جب اکٹھا ہوتے ہیں تو باعث ضرر ہوتے ہیں اور جب منتشر ہو جاتے ہیں تو فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں لوگوں نے کہا کہ ہمیں ان کے مجتمع ہونے کا نقصان تو معلوم ہے مگر ان کے منتشر ہونے کا فائدہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ پیشہ ور اپنے اپنے کاروبار کی طرف پلٹ جاتے ہیں تو لوگ ان کے ذریعہ فائدہ اٹھاتے ہیں جیسے معمار اپنی (زیر تعمیر )عمارت کی طرف جولاہا اپنے کاروبار کی جگہ کی طرف اور نانبائی اپنے تنور کی طرف۔ (199- عوام)
امام علی علیہ السلام کی یہ حکمت (199) معاشرتی زندگی کے ایک اہم پہلو کی عکاسی کرتی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 198
تفصیلی وضاحت — حکمت (198) : جب خوار ج کا قول »لاَ حُکمَ اِلاَّ اللّٰہ «(حکم اللہ سے مخصوص ہے )سنا تو فرمایا :یہ جملہ صحیح ہے مگر جو اس سے مراد لیا جاتا ہے وہ غلط ہے۔ (198- قول خوارج)
حکمت (198) میں امام علی (علیہ السلام) کا یہ قول خوارج کے نعرے کا جواب ہے، جو "لا حُکمَ اِلَّا…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 197
تفصیلی وضاحت — حکمت (197) : یہ دل بھی اسی طرح تھکتے ہیں جس طرح بدن تھکتے ہیں۔ لہٰذا (جب ایسا ہو تو )ان کے لیے لطیف حکیمانہ جملے تلاش کرو (197- دلوں کی خستگی)
حکمت (197): یہ دل بھی اسی طرح تھکتے ہیں جس طرح بدن تھکتے ہیں۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 196
تفصیلی وضاحت — حکمت (196) : تمہارا وہ مال اکارت نہیں گیا جو تمہارے لیے عبرت و نصیحت کا باعث بن جائے۔ (196- عبرت کی قدر و قیمت)
حکمت 196: تمہارا وہ مال اکارت نہیں گیا جو تمہارے لیے عبرت و نصیحت کا باعث بن جائے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 195
تفصیلی وضاحت — حکمت (195) : آپ کا گزر ہوا ایک گھورے کی طر ف سے جس پر غلاظتیں تھیں۔ فرمایا۔ یہ وہ ہے جس کے ساتھ بخل کرنے والوں نے بخل کیا تھا۔ایک اور روایت میں ہے کہ اس موقع پر آپ نے فرمایا :یہ وہ ہے جس پر تم لوگ کل ایک دوسرے پر رشک کرتے تھے۔ (195- گندگی کو دیکھ کر)
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی ایک عمیق بصیرت کی عکاسی کرتی ہے...
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 194
تفصیلی وضاحت — حکمت (194) : جب غصہ مجھے آئے تو کب اپنے غصہ کو اتاروں کیا اس وقت کہ جب انتقام نہ لے سکوں اور یہ کہا جائے کہ صبر کیجئے۔ یا اس وقت کہ جب انتقام پر قدرت ہو اور کہا جائے کہ بہتر ہے درگزر کیجئے۔ (194- غصّہ اور انتقام)
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی بصیرت اور حکمت کی عکاسی کرتی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 193
تفصیلی وضاحت — حکمت (193) : دلوں کے لیے رغبت و میلان، آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا ہوتا ہے۔ لہٰذا ان سے اس وقت کام لو جب ان میں خواہش و میلان ہو، کیونکہ دل کو مجبور کر کے کسی کام پر لگایا جائے تو اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ (193- خوش دلی و بد دلی)
حکمت (193) میں امام علی (علیہ السلام) دلوں کی رغبت و میلان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
