Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 473
تفصیلی وضاحت — حکمت (473) : حضرتؑ سےکہا گیا کہ اگر آپ سفید بالوں کو (خضاب سے) بدل دیتے تو بہتر ہوتا۔ اس پر حضرتؑ نے فرمایا کہ خضاب زینت ہے اور ہم لوگ سوگوار ہیں۔ سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت نے اس سے وفاتِ پیغمبر (ص) مراد لی ہے۔ (473- ترک خضاب)
حکمت (473) میں حضرت علیؑ کا یہ فرمان ایک عمیق اور معنی خیز پیغام پر مشتمل ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 472
تفصیلی وضاحت — حکمت (472) : طلب باراں کی ایک دعا میں فرمایا: بارِ الہٰا! ہمیں فرمانبردار ابروں سے سیراب کر، نہ اُن ابروں سے جو سرکش اور منہ زور ہوں سید رضی کہتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب فصاحت پر مشتمل ہے۔ اس طرح کہ امیر المومنین علیہ السلام نے کڑک، چمک، ہوا اور بجلی والے بادلوں کو اُن اونٹوں سے تشبیہ دی ہے کہ جو اپنی منہ زوری سے زمین پر پیر مار کر پالان پھینک دیتے ہوں اور اپنے سواروں کو گرا دیتے ہوں۔ اور ان خوفناک چیزوں سے خالی ابر کو ان اونٹنیوں سے تشبیہ دی ہے جو دوہنے میں مطیع ہوں اور سواری کرنے میں سوار کی مرضی کے مطابق چلیں۔ (472- طلب باراں)
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی ایک دعا سے ماخوذ ہے، جس میں بارش کے بارے میں اللہ تعالیٰ…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 471
تفصیلی وضاحت — حکمت (471) : حکمت کی بات سے خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں جس طرح جہالت کے ساتھ بات کرنے میں کوئی بھلائی نہیں۔ (471- کلام اور خاموشی)
حکمت (471) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک اہم نکتہ بیان کیا ہے کہ حکمت کی بات سے خاموش…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 470
تفصیلی وضاحت — حکمت (470) : حضرت سے توحید و عدل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا توحید یہ ہے کہ اسے اپنے وہم و تصور کا پابند نہ بناؤ اور یہ عدل ہے کہ اس پر الزامات نہ لگاؤ۔ (470- توحید و عدل)
حکمت (۴۷۰) میں حضرت علی علیہ السلام نے توحید اور عدل کے بارے میں ایک اہم بیان دیا ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 469
تفصیلی وضاحت — حکمت (469) : میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاکت میں مبتلا ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ جانے والا اور دوسرا جھوٹ و افترا باندھنے والا۔ سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت کایہ قول اس ارشاد کے مانند ہے کہ میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاک ہوئے ایک محبت میں غلو کرنے والا، اور دوسرا دشمنی و عناد رکھنے والا۔ (469- دشمن و دوست)
حکمت (469) میں امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاکت میں مبتلا…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 468
تفصیلی وضاحت — حکمت (468) : لوگوں پر ایک ایسا گزند پہنچانے والا دور آئے گا، جس میں مالدار اپنے مال میں بخل کرے گا حالانکہ اسے یہ حکم نہیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ »آپس میں حسن سلوک کو فراموش نہ کرو «اس زمانہ میں شریر لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نیکو کار ذلیل خوار سمجھے جائیں گے اور مجبور اور بے بس لوگوں سے خرید و فروخت کی جائے گی۔حالانکہ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم نے مجبور و مضطر لوگوں سے (اونے پونے )خریدنے کو منع کیا ہے۔ (468- خریدو فروخت)
حکمت (468) میں امام علی علیہ السلام نے ایک ایسے دور کی پیشگوئی کی ہے جس میں لوگوں کی اخلاقی…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 467
تفصیلی وضاحت — حکمت (467) : ایک کلام کے ضمن آپ نے فرمایا لوگوں کے امور کا ایک حاکم و فرماں روا ذمہ دار ہوا جو سیدھے پر چلا اور دوسروں کو اس راہ پر لگایا۔ یہاں تک کہ دین نے اپنا سینہ ٹیک دیا۔ (467- ایک والی)
حکمت (467) میں امام علیؑ نے ایک حاکم کی ذمہ داری اور اس کی راہنمائی کے بارے میں بات کی…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 466
تفصیلی وضاحت — حکمت (466) : آنکھ عقب کے لیے تسمہ ہے۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب استعارات میں سے ہے گویا آپ نے عقب کو ظرف سے اور آنکھ کو تسمہ سے تشبیہہ دی ہے اور تسمہ کھول دیا جائے تو برتن میں جو کچھ ہوتا ہے۔ رک نہیں سکتا مشہور واضح ہے کہ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے۔ مگر کچھ لوگوں نے اسے امیر المومنین علیہ السلام سے بھی روایت کیا ہے چنانچہ مبرد نے اس کا اپنی کتاب »المقتضب«باب اللفظ بالحروف میں ذکر کیا ہے اور ہم نے اپنی کتاب »مجازات الآثار النبویہ«میں اس استعار ہ کے متعلق بحث کی ہے (466- ایک استعارہ)
حکمت (466): آنکھ عقب کے لیے تسمہ ہے۔ یہ حکمت ایک عمیق اور طاقتور استعارہ ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 465
تفصیلی وضاحت — حکمت (465) : انصار کی مدح و توصیف میں فرمایا خدا کی قسم انہوں نے اپنی خوش حالی سے اسلام کی اس طرح تربیت کی، جس طرح یکسالہ بچھڑے کو پالا پوسا جاتا ہے۔ اپنے کریم ہاتھوں اور زبانوں کے ساتھ۔ (465- انصار)
حکمت (465) میں امام علی (علیہ السلام) انصار کی تعریف کرتے ہیں، جو اسلامی تاریخ میں ایک اہم کردار ادا…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 464
تفصیلی وضاحت — حکمت (464) : بنی امیہ کے لیے ایک مرودارواد (مہلت کا میدان )ہے جس میں وہ دوڑ لگا رہے ہیں جب ان میں باہمی اختلاف رونما ہو تو پھر بجو بھی ان پر حملہ کریں تو ان پر غالب آ جائیں گے۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ)مرودار واد مفعل کے وزن پر ہے اور اس کے معنی مہلت و فرصت دینے کے ہیں اور یہ بہت فصیح اور عجیب و غریب کلام ہے گویا آپ علیہ السّلام نے ان کے زمانہ مہلت کو ایک میدان سے تشبیہہ دی ہے جس میں انتہا کی حد تک پہنچنے کے لیے دوڑے جائیں گے تو ان کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ (464- بنی اُمیہ)
حکمت (464) میں امام علی علیہ السلام بنی امیہ کے بارے میں ایک عمیق بصیرت پیش کرتے ہیں۔
