Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 298
تفصیلی وضاحت — حکمت (298) : جو لڑائی جھگڑے میں حد سے بڑھ جائے وہ گنہگار ہوتا ہے اور جو اس میں کمی کرے، اس پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں اور جو لڑتا جھگڑتا ہے اس کے لیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ خوف خدا قائم رکھے۔ (298- دشمنی میں خوفِ خدا کا لحاظ)
حکمت (298) میں امام علی علیہ السلام نے لڑائی جھگڑے کے بارے میں ایک اہم اصول بیان کیا ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 297
تفصیلی وضاحت — حکمت (297) : نصیحتیں کتنی زیادہ ہیں اور ان سے اثر لینا کتنا کم ہے۔ (297- عبرت و بصیرت)
حکمت (297) : نصیحتیں کتنی زیادہ ہیں اور ان سے اثر لینا کتنا کم ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 296
تفصیلی وضاحت — حکمت (296) : حضرت نے ایک ایسے شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دشمن کو ایسی چیز کے ذریعہ سے نقصان پہنچانے کے درپے ہے جس میں خود اس کو بھی نقصان پہنچے گا، تو آ پ نے فرمایا کہ تم اس شخص کی مانند ہو جو اپنے پیچھے والے سوار کو قتل کرنے کے لیے اپنے سینہ میں نیزہ مارے۔ (296- ایذا رسانی)
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی بصیرت اور حکمت کا مظہر ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 295
تفصیلی وضاحت — حکمت (295) : تین قسم کے تمہارے دوست ہیں اور تین قسم کے دشمن۔ دوست یہ ہیں :تمہارا دوست، تمہارے دوست کا دوست، اور تمہارے دشمن کا دشمن اور دشمن یہ ہیں :تمہارا دشمن، تمہارے دوست کا دشمن اور تمہارے دشمن کا دوست۔ (295- دوست و دشمن)
امام علی (علیہ السلام) کی یہ حکمت دوستوں اور دشمنوں کی اقسام کی وضاحت کرتی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 294
تفصیلی وضاحت — حکمت (294) : آپ سے دریافت کیا گیا کہ مشرق و مغرب کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟آپ نے فرمایا »سورج کا ایک دن کا راستہ«۔ (294- مغرب و مشرق کا فاصلہ)
حکمت (294) میں امام علی علیہ السلام نے مشرق و مغرب کے فاصلے کی حقیقت بیان کی ہے۔
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 293
تفصیلی وضاحت — حکمت (293) : بے وقوف کی ہم نشینی اختیار نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے سامنے اپنے کاموں کو سجا کر پیش کرے گا اور یہ چاہے گا کہ تم اسی کے ایسے ہو جاؤ۔ (293- بے وقوف کی مصاحبت)
حکمت (293) بے وقوف کی ہم نشینی اختیار نہ کرو، کیونکہ وہ تمہارے سامنے اپنے کاموں کو سجا کر پیش…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 292
تفصیلی وضاحت — حکمت (292) : رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم کے دفن کے وقت قبر پر یہ الفاظ کہے۔ صبر عموماً اچھی چیز ہے سوائے آپ کے غم کے اور بیتابی و بے قراری عموماً بری چیز ہے سوائے آپ کی وفات کے اور بلاشبہ آپ کی موت کا صدمہ عظیم ہے، اور آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آنے والی مصیبت سبک ہے۔ (292- قبر رسولؐ پر)
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی ایک عمیق بصیرت کا اظہار ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 291
تفصیلی وضاحت — حکمت (291) : اشعث ابن قیس کو اس کے بیٹے کا پرسا دیتے ہوئے فرمایا اے اشعث !اگر تم اپنے بیٹے پر رنج و ملال کرو تو یہ خون کا رشتہ اس کا سزا وار ہے، اور اگر صبر کرو تو اللہ کے نزدیک ہر مصیبت کا عوض ہے۔ اے اشعث !اگر تم نے صبر کیا تو تقدیر الہی نافذ ہو گی اس حال میں کہ تم اجر و ثواب کے حقدار ہو گے اور اگر چیخے چلائے، جب بھی حکم قضا کا جاری ہو کر رہے گا۔ مگر اس حال میں کہ تم پر گناہ کا بوجھ ہو گا۔ تمہارے لیے بیٹا مسرت کا سبب ہوا حالانکہ وہ ایک زحمت و آزمائش تھا اور تمہارے لیے رنج و اندوہ کا سبب ہوا حالانکہ وہ (مرنے سے )تمہارے لیے اجر و رحمت کا باعث ہوا ہے۔ (291- تعزیت)
یہ حکمت امام علی (ع) کی ایک عظیم نصیحت ہے جو اشعث ابن قیس کو ان کے بیٹے کی وفات…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 290
تفصیلی وضاحت — حکمت (290) : اگر خداوند عالم نے اپنی معصیت کے عذاب سے نہ ڈرایا ہوتا، جب بھی اس کی نعمتوں پر شکر کا تقاضا یہ تھا کہ اس کی معصیت نہ کی جائے۔ (290- ترک معصیت)
حکمت (290) میں امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا کی نعمتوں پر شکر کا تقاضا یہ ہے کہ…
Nehjul Balagah Detailed Explanation
Nehjul Balagah Detailed Explanation 289
تفصیلی وضاحت — حکمت (289) : عہد ماضی میں میرا ایک دینی بھائی تھا اور وہ میری نظروں میں اس وجہ سے با عزت تھا کہ دنیااس کی نظروں میں پست و حقیر تھی۔ اس پر پیٹ کے تقاضے مسلط نہ تھے۔ لہٰذا جو چیز اُسے میسر نہ تھی اس کی خواہش نہ کرتا تھا اور جو چیز میسر تھی اسے ضرورت سے زیادہ صرف میں نہ لاتا تھا۔ وہ اکثر اوقات خاموش رہتا تھا اور اگر بولتا تھا تو بولنے والوں کو چپ کرا دیتا تھا اور سوال کرنے والوں کی پیاس بجھا دیتا تھا۔ یوں تو وہ عاجز و کمزور تھا، مگر جہاد کا موقع آ جائے تو وہ شیر بیشہ اور وادی کا اژدھا تھا۔ وہ جو دلیل و برہان پیش کرتا تھا، وہ فیصلہ کن ہوتی تھی۔ وہ ان چیزوں میں کہ جن میں عذر کی گنجائش ہوتی تھی، کسی کو سرزنش نہ کرتا تھا جب تک کہ اس کے عذر معذرت کو سن نہ لے وہ کسی تکلیف کا ذکر نہ کرتا تھا، مگر اس وقت کہ جب اس سے چھٹکارا پا لیتا تھا، وہ جو کرتا تھا، وہی کہتا تھا اور جو نہیں کرتا تھا وہ اسے کہتا نہیں تھا۔اگر بولنے میں اس پر کبھی غلبہ پا بھی لیا جائے تو خاموشی میں اس پر غلبہ حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔وہ بولنے سے زیادہ سننے کا خواہشمند رہتا تھا اور جب اچانک اس کے سامنے دو چیزیں آ جاتی تھیں تو دیکھتا تھا کہ ان دونوں میں سے ہوائے نفس کے زیادہ قریب کون ہے تو وہ اس کی مخالفت کرتا تھا۔ لہٰذا تمہیں ان عادات و خصائل کو حاصل کرنا چاہیے اور ان پر عمل پیرا اور ان کا خواہشمند رہنا چاہیے اگر ان تمام کا حاصل کرنا تمہاری قدرت سے باہر ہو تو اس بات کو جانے رہو کہ تھوڑی سی چیز حاصل کرنا پور ے کے چھوڑ دینے سے بہتر ہے۔ (289- ایک دینی بھائی)
حکمت (289) میں امام علی (علیہ السلام) اپنے ایک دینی بھائی کا ذکر کرتے ہیں، جو دنیا کی حقارت کو…
