0 اندراجات
تفصیلی وضاحت — حکمت (122) :  حضرت ایک جنازہ کے پیچھے جا رہے تھے کہ ایک شخص کے ہنسنے کی آواز سنی جس پر آپ نے فرمایا۔
گویا اس دنیا میں موت ہمارے علاوہ دوسروں کے لیے لکھی گئی ہے اور گویا یہ حق (موت) دوسروں ہی پر لازم ہے اور گویا جن مرنے والوں کو ہم دیکھتے ہیں، وہ مسافر ہیں جو عنقریب ہماری طرف پلٹ آئیں گے۔ ادھر ہم انہیں قبروں میں اتارتے ہیں ادھر ان کا ترکہ کھانے لگتے ہیں گویا ان کے بعد ہم ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ پھر یہ کہ ہم نے ہر پندو نصیحت کرنے والے کو، وہ مرد ہو یا عورت، بھلا دیا ہے اور ہر آفت کا نشانہ بن گئے ہیں۔ (122- مشایعت جنازہ) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 122

تفصیلی وضاحت — حکمت (122) : حضرت ایک جنازہ کے پیچھے جا رہے تھے کہ ایک شخص کے ہنسنے کی آواز سنی جس پر آپ نے فرمایا۔ گویا اس دنیا میں موت ہمارے علاوہ دوسروں کے لیے لکھی گئی ہے اور گویا یہ حق (موت) دوسروں ہی پر لازم ہے اور گویا جن مرنے والوں کو ہم دیکھتے ہیں، وہ مسافر ہیں جو عنقریب ہماری طرف پلٹ آئیں گے۔ ادھر ہم انہیں قبروں میں اتارتے ہیں ادھر ان کا ترکہ کھانے لگتے ہیں گویا ان کے بعد ہم ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ پھر یہ کہ ہم نے ہر پندو نصیحت کرنے والے کو، وہ مرد ہو یا عورت، بھلا دیا ہے اور ہر آفت کا نشانہ بن گئے ہیں۔ (122- مشایعت جنازہ)

حکمت (122) میں امام علی علیہ السلام نے موت کی حقیقت کی یاد دہانی کرائی ہے۔

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (121) :  ان دونوں قسم کے عملوں میں کتنا فرق ہے ایک وہ عمل جس کی لذت مٹ جائے لیکن اس کا وبال رہ جائے اور ایک وہ جس کی سختی ختم ہو جائے لیکن اس کا اجر و ثواب باقی رہے۔ (121- دو عمل) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 121

تفصیلی وضاحت — حکمت (121) : ان دونوں قسم کے عملوں میں کتنا فرق ہے ایک وہ عمل جس کی لذت مٹ جائے لیکن اس کا وبال رہ جائے اور ایک وہ جس کی سختی ختم ہو جائے لیکن اس کا اجر و ثواب باقی رہے۔ (121- دو عمل)

حکمت (121) میں امام علی علیہ السلام نے دو مختلف قسم کے اعمال کی وضاحت کی ہے۔

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (120) :  حضرت سے قریش کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ (قبیلہ) بنی مخزوم قریش کا مہکتا ہوا پھول ہیں، ان کے مردوں سے گفتگو اور ان کی عورتوں سے شادی پسندیدہ ہے اور بنی عبد شمس دور اندیش اور پیٹھ پیچھے کی اوجھل چیزوں کی پوری روک تھام کرنے والے ہیں لیکن ہم (بنی ہاشم) تو جب ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اسے صرف کر ڈالتے ہیں، اور موت آنے پر جان دیتے ہیں۔ بڑے جوانمرد ہوتے ہیں اور یہ بنی (عبد شمس) گنتی میں زیادہ حیلہ باز اور بدصورت ہوتے ہیں اور ہم خوش گفتار خیر خواہ اور خوب صورت ہوتے ہیں۔ (120- قریش کی خصوصیت) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 120

تفصیلی وضاحت — حکمت (120) : حضرت سے قریش کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ (قبیلہ) بنی مخزوم قریش کا مہکتا ہوا پھول ہیں، ان کے مردوں سے گفتگو اور ان کی عورتوں سے شادی پسندیدہ ہے اور بنی عبد شمس دور اندیش اور پیٹھ پیچھے کی اوجھل چیزوں کی پوری روک تھام کرنے والے ہیں لیکن ہم (بنی ہاشم) تو جب ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اسے صرف کر ڈالتے ہیں، اور موت آنے پر جان دیتے ہیں۔ بڑے جوانمرد ہوتے ہیں اور یہ بنی (عبد شمس) گنتی میں زیادہ حیلہ باز اور بدصورت ہوتے ہیں اور ہم خوش گفتار خیر خواہ اور خوب صورت ہوتے ہیں۔ (120- قریش کی خصوصیت)

امام علی علیہ السلام نے قریش کے مختلف قبائل کی خصوصیات کا ذکر کیا ہے۔

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (119) :  دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے جب چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندر زہر ہلاہل بھرا ہوتا ہے، فریب خوردہ جاہل اس کی طرف کھینچتا ہے اور ہوشمند و دانا اس سے بچ کر رہتا ہے۔ (119- دنیا کی ایک مثال) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 119

تفصیلی وضاحت — حکمت (119) : دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے جب چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندر زہر ہلاہل بھرا ہوتا ہے، فریب خوردہ جاہل اس کی طرف کھینچتا ہے اور ہوشمند و دانا اس سے بچ کر رہتا ہے۔ (119- دنیا کی ایک مثال)

حکمت (119) میں امام علی علیہ السلام دنیا کی فطرت اور اس کے فریبوں کی مثال دیتے ہیں۔

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (118) : موقع کو ہاتھ سے جانے دینا رنج و اندوہ کا باعث ہوتا ہے۔ (118- فرصت کے کھونے کا نتیجہ) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 118

تفصیلی وضاحت — حکمت (118) : موقع کو ہاتھ سے جانے دینا رنج و اندوہ کا باعث ہوتا ہے۔ (118- فرصت کے کھونے کا نتیجہ)

حکمت (118) : موقع کو ہاتھ سے جانے دینا رنج و اندوہ کا باعث ہوتا ہے۔

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (117) :  میرے بارے میں دو قسم کے لوگ تباہ و برباد ہوئے۔ ایک وہ چاہنے والا جو حد سے بڑھ جائے اور ایک وہ دشمنی رکھنے والا جب عداوت رکھے۔ (117- دوست و دشمن) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 117

تفصیلی وضاحت — حکمت (117) : میرے بارے میں دو قسم کے لوگ تباہ و برباد ہوئے۔ ایک وہ چاہنے والا جو حد سے بڑھ جائے اور ایک وہ دشمنی رکھنے والا جب عداوت رکھے۔ (117- دوست و دشمن)

حکمت (117) میں امام علی (علیہ السلام) نے دو اقسام کے لوگوں کی تباہی کی بات کی ہے: ایک وہ…

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (116) : کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نعمتیں دے کر رفتہ رفتہ عذاب کا مستحق بنایا جاتا ہے اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جب اللہ کی پردہ پوشی سے دھوکا کھائے ہوئے ہیں اور اپنے بارے میں اچھے الفاظ سن کر فریب میں پڑ گئے ہیں اور مہلت دینے سے زیادہ اللہ کی جانب سے کوئی بڑی آزمائش نہیں ہے۔ (116- ابتلاء و آزمائش) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 116

تفصیلی وضاحت — حکمت (116) : کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نعمتیں دے کر رفتہ رفتہ عذاب کا مستحق بنایا جاتا ہے اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جب اللہ کی پردہ پوشی سے دھوکا کھائے ہوئے ہیں اور اپنے بارے میں اچھے الفاظ سن کر فریب میں پڑ گئے ہیں اور مہلت دینے سے زیادہ اللہ کی جانب سے کوئی بڑی آزمائش نہیں ہے۔ (116- ابتلاء و آزمائش)

حکمت (116) میں امام علی (علیہ السلام) نے انسانی فطرت اور اللہ کی حکمتوں کی ایک اہم حقیقت کی طرف…

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (115) :  امیر المومنین علیہ السّلام سے دریافت کیا گیا کہ آپ علیہ السّلام کا حال کیسا ہے ؟ تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا:  کہ اس کا حال کیا ہو گا جسے زندگی موت کی طرف لیے جا رہی ہو، اور جس کی صحت بیماری کا پیش خیمہ ہو اور جسے اپنی پناہ گاہ سے گرفت میں لے لیا جائے۔ (115- مزاج پُرسی کا جواب) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 115

تفصیلی وضاحت — حکمت (115) : امیر المومنین علیہ السّلام سے دریافت کیا گیا کہ آپ علیہ السّلام کا حال کیسا ہے ؟ تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا: کہ اس کا حال کیا ہو گا جسے زندگی موت کی طرف لیے جا رہی ہو، اور جس کی صحت بیماری کا پیش خیمہ ہو اور جسے اپنی پناہ گاہ سے گرفت میں لے لیا جائے۔ (115- مزاج پُرسی کا جواب)

حکمت (115): امیر المومنین علیہ السّلام کا حال کیا ہو گا جسے زندگی موت کی طرف لیے جا رہی ہو؟

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (114) : جب دنیا اور اہل دنیا میں نیکی کا چلن ہو، اور پھر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے کہ جس سے رسوائی کی کوئی بات ظاہر نہیں ہوئی سُوِ ظن رکھے تو اس نے اس پر ظلم و زیادتی کی اور جب دنیا و اہل دنیا پر شر و فساد کا غلبہ ہو اور پھر کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے حسن ظن رکھے تو اس نے (خود ہی اپنے کو) خطرے میں ڈالا۔ (114- خوش گمانی و بد گمانی) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 114

تفصیلی وضاحت — حکمت (114) : جب دنیا اور اہل دنیا میں نیکی کا چلن ہو، اور پھر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے کہ جس سے رسوائی کی کوئی بات ظاہر نہیں ہوئی سُوِ ظن رکھے تو اس نے اس پر ظلم و زیادتی کی اور جب دنیا و اہل دنیا پر شر و فساد کا غلبہ ہو اور پھر کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے حسن ظن رکھے تو اس نے (خود ہی اپنے کو) خطرے میں ڈالا۔ (114- خوش گمانی و بد گمانی)

حکمت (114) میں امام علی علیہ السلام نے انسانی معاشرت کے دو مختلف پہلوؤں کی عکاسی کی ہے۔

مزید پڑھیے
تفصیلی وضاحت — حکمت (113) :  عقل سے بڑھ کر کوئی مال سود مند اور خود بینی سے بڑھ کر کوئی تنہائی وحشتناک نہیں اور تدبر سے بڑھ کر کوئی عقل کی بات نہیں اور کوئی بزرگی تقویٰ کے مثل نہیں اور خوش خلقی سے بہتر کوئی ساتھی اور ادب کے مانند کوئی میراث نہیں اور توفیق کے مانند کوئی پیشرو اور اعمال خیر سے بڑھ کر کوئی تجارت نہیں اور ثواب کا ایسا کوئی نفع نہیں اور کوئی پرہیز گاری شبہات میں توقف سے بڑھ کر نہیں اور حرام کی طرف بے رغبتی سے بڑھ کر کوئی زہد اور تفکر اور پیش بینی سے بڑھ کر کوئی علم نہیں اور ادائے فرائض کے مانند کوئی عبادت اور حیا و صبر سے بڑھ کر کوئی ایمان نہیں اور فروتنی سے بڑھ کر کوئی سرفرازی نہیں اور علم کے مانند کوئی بزرگی و شرافت نہیں حلم کے مانند کوئی عزت اور مشورہ سے مضبوط کوئی پشت پناہ نہیں (113- پسندیدہ اوصاف) Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation 113

تفصیلی وضاحت — حکمت (113) : عقل سے بڑھ کر کوئی مال سود مند اور خود بینی سے بڑھ کر کوئی تنہائی وحشتناک نہیں اور تدبر سے بڑھ کر کوئی عقل کی بات نہیں اور کوئی بزرگی تقویٰ کے مثل نہیں اور خوش خلقی سے بہتر کوئی ساتھی اور ادب کے مانند کوئی میراث نہیں اور توفیق کے مانند کوئی پیشرو اور اعمال خیر سے بڑھ کر کوئی تجارت نہیں اور ثواب کا ایسا کوئی نفع نہیں اور کوئی پرہیز گاری شبہات میں توقف سے بڑھ کر نہیں اور حرام کی طرف بے رغبتی سے بڑھ کر کوئی زہد اور تفکر اور پیش بینی سے بڑھ کر کوئی علم نہیں اور ادائے فرائض کے مانند کوئی عبادت اور حیا و صبر سے بڑھ کر کوئی ایمان نہیں اور فروتنی سے بڑھ کر کوئی سرفرازی نہیں اور علم کے مانند کوئی بزرگی و شرافت نہیں حلم کے مانند کوئی عزت اور مشورہ سے مضبوط کوئی پشت پناہ نہیں (113- پسندیدہ اوصاف)

یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی ایک اہم تعلیماتی عبارت ہے جو انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی…

مزید پڑھیے